اس نے کہا تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟ انھوں نے کہا اللہ کی پناہ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی بیوی نے کہا اب حق خوب ظاہر ہو گیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا سچوں سے ہے۔
En
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
بادشاه نے پوچھا اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کر کے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں، انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذ اللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی۔ میں نے ہی اسے ورغلایا تھا، اس کے جی سے، اور یقیناً وه سچوں میں سے ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا ﴿مَاخَطْبُكُ٘نَّ﴾”تمھارا کیا معاملہ ہے؟“﴿ اِذْرَاوَدْتُّ٘نَّیُوْسُفَعَنْنَّفْسِهٖ﴾”جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا؟“ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی؟ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کی براء ت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں: ﴿ قُ٘لْ٘نَحَاشَلِلّٰهِمَاعَلِمْنَاعَلَیْهِمِنْسُوْٓءٍ﴾”حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔“ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دارومدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ ﴿ قَالَتِامْرَاَتُالْ٘عَزِیْزِالْ٘ـٰٔنَحَصْحَصَالْحَقُّ﴾”عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہو گیا ہے“ یعنی حق واضح ہوگیا ہے جبکہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوس کرنے کا باعث بنا۔ ﴿ اَنَارَاوَدْتُّهٗعَنْنَّفْسِهٖوَاِنَّهٗلَ٘مِنَالصّٰؔدِقِیْنَ﴾”میں نے ہی اس کو اس کے جی سے پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقینا سچا ہے“ یعنی یوسف علیہ السلام اپنے اقوال اور اپنی براء ت کے دعوے میں سچے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأحضرهنَّ الملك وقال: {ما خطبُكُنَّ}؛ أي: شأنكُن، {إذ راودتُنَّ يوسفَ عن نفسِهِ}: فهل رأيتُن منه ما يريب؟! فبرَّأنَه و {قلن حاشَ لله ما علِمْنا عليه من سوءٍ}؛ أي: لا قليل ولا كثير؛ فحينئذ زال السببُ الذي تُبْنَى عليه التُّهمة، ولم يبقَ إلاَّ ما عند امرأة العزيز، فقالتِ {امرأة العزيز الآنَ حَصْحَصَ الحقُّ}؛ أي: تمحَّص وتبيَّن بعدما كنَّا نُدْخِل معه من السوء والتُّهمة ما أوجب السجن ليوسف ، {أنا راودتُه عن نفسِهِ وإنَّه لمن الصادقينَ}: في أقواله وبراءته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔