تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 45

وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۵﴾
اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا میں تمھیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، سو مجھے بھیجو۔ En
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
En
ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد یاد آگیا اور کہنے لگامیں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا ان دو نوجوانوں میں سے جو بچ گیا تھا، اس نے کہا اور یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے جس سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ وہ اپنے آقا کے پاس ان کا ذکر کرے ﴿ وَادَّؔكَرَ بَعْدَ اُمَّؔةٍ اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی۔ یعنی کئی سال کی مدت کے بعد اسے یوسف علیہ السلام اور ان کا ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر بتانا اور یوسف علیہ السلام کا وصیت کرنا یاد آیا اور اسے معلوم تھا کہ اس خواب کی تعبیر صرف یوسف علیہ السلام ہی بتا سکتے ہیں۔ اس لیے وہ کہنے لگا: ﴿ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ٘ فَاَرْسِلُوْنِ میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر، پس تم مجھے بھیجو یعنی مجھے یوسف علیہ السلام کے پاس بھیجو تاکہ میں ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھ سکوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذي نجا منهما}؛ أي: من الفتيين، وهو الذي رأى أنَّه يعصِرُ خمراً، وهو الذي أوصاه يوسف أن يذكُرَه عند ربِّه، {وادَّكَرَ بعد أُمَّةٍ}؛ أي: وتذكَّر يوسف وما جرى له في تعبيره لرؤياهما وما وصَّاه به وعلم أنه كفيلٌ بتعبير هذه الرؤيا بعد مدَّةٍ من السنين، فقال: {أنَا أنبِّئكم بتأويلِهِ فأرسلونِ}: إلى يوسفَ لأسأله عنها.