تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر یوسف علیہ السلام نے نہایت صراحت کے ساتھ ان دونوں کو توحید کی دعوت دی۔ فرمایا: ﴿ یٰصَاحِبَیِالسِّجْنِءَاَرْبَابٌمُّتَفَرِّقُوْنَ۠ؔخَیْرٌاَمِاللّٰهُالْوَاحِدُالْقَهَّارُ﴾”اے قید کے ساتھیو! کیا متفرق معبود بہتر ہیں یا ایک غالب اللہ“ یعنی عاجز اور کمزور معبود جو کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتے ہیں نہ محروم کر سکتے ہیں یہ معبود شجر و حجر، فرشتوں، مردہ ہستیوں اور دیگر مختلف قسم کے معبودوں میں بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں جن کو ان مشرکین نے معبود بنا رکھا ہے کیا یہ معبودان اچھے ہیں ﴿ اَمِاللّٰهُ ﴾”یااللہ“ جو صفات کمال کا مالک ہے ﴿ الْوَاحِدُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے۔ ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿ الْقَهَّارُ ﴾ اس کے قہر اور تسلط کے سامنے تمام کائنات سرافگندہ ہے وہ جو چیز چاہتا ہے ہو جاتی ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتی۔ ﴿ مَؔامِنْدَآبَّةٍاِلَّاهُوَاٰخِذٌۢبِنَاصِیَتِهَا ﴾ (ھود: 11؍56) ”جو بھی چلنے پھرنے والا جاندار ہے اس کی پیشانی اس کے قبضۂ اختیار میں ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم صرح لهما بالدعوة فقال: {يا صاحبي السجنِ أأربابٌ متفرِّقونَ خيرٌ أم الله الواحد القهار}؛ أي: أأربابٌ عاجزة ضعيفة لا تنفع ولا تضرُّ ولا تعطي ولا تمنع وهي متفرِّقة ما بين أشجار وأحجار وملائكة وأموات وغير ذلك من أنواع المعبودات التي يتَّخذها المشركون، أتلك خيرٌ أم الله الذي له صفات الكمال الواحد في ذاته وصفاته وأفعاله؟ فلا شريكَ له في شيء من ذلك، القهَّار الذي انقادت الأشياء لقهرِهِ وسلطانِهِ؛ فما شاء كان، وما لم يشأ لم يكنْ، ما من دابَّة إلاَّ هو آخذٌ بناصيتها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔