تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَمَّابَلَ٘غَاَشُدَّهٗۤ ﴾”اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔“ یعنی جب جناب یوسف علیہ السلام کے قوائے حسیہ اور قوائے معنویہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ نبوت اور رسالت کا بھاری بوجھ اٹھا سکیں۔ ﴿اٰتَیْنٰهُحُكْمًاوَّعِلْمًا﴾”تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔“ یعنی ہم نے ان کو نبی، رسول اور عالم ربانی بنا دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَنَجْزِیالْمُحْسِنِیْنَ﴾”اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو“ یعنی جو پوری کوشش اور خیر خواہی سے خالق کی عبادت میں ”احسان“ سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو نفع پہنچا کر ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں ہم ان کو ان کے اس احسان کے بدلے علم نافع عطا کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یوسف علیہ السلام مقام احسان پر فائز تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت، علم کثیر اور نبوت عطا کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {لما بلغ} يوسف {أشُدَّه}؛ أي: كمال قوته المعنويَّة والحسيَّة وصَلَحَ لأن يتحمَّل الأحمال الثقيلة من النبوة والرسالة؛ {آتَيْناه حكماً وعلماً}؛ أي: جعلناه نبيًّا رسولاً وعالماً ربانيًّا. {وكذلك نجزي المحسنين}: في عبادة الخالق ببذل الجهد والنُّصح فيها، وإلى عباد الله ببذل النفع والإحسان إليهم؛ نؤتيهم من جملة الجزاء على إحسانهم علماً نافعاً. ودلَّ هذا على أن يوسف وَفَّى مقام الإحسان، فأعطاه الله الحكم بين الناس والعلم الكثير والنبوة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔