تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے بڑا حکم اور بڑا علم عطا کیا اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ En
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
En
اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا، ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَمَّا بَلَ٘غَ اَشُدَّهٗۤ اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔ یعنی جب جناب یوسف علیہ السلام کے قوائے حسیہ اور قوائے معنویہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ نبوت اور رسالت کا بھاری بوجھ اٹھا سکیں۔ ﴿اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ یعنی ہم نے ان کو نبی، رسول اور عالم ربانی بنا دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو یعنی جو پوری کوشش اور خیر خواہی سے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو نفع پہنچا کر ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں ہم ان کو ان کے اس احسان کے بدلے علم نافع عطا کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یوسف علیہ السلام مقام احسان پر فائز تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت، علم کثیر اور نبوت عطا کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {لما بلغ} يوسف {أشُدَّه}؛ أي: كمال قوته المعنويَّة والحسيَّة وصَلَحَ لأن يتحمَّل الأحمال الثقيلة من النبوة والرسالة؛ {آتَيْناه حكماً وعلماً}؛ أي: جعلناه نبيًّا رسولاً وعالماً ربانيًّا. {وكذلك نجزي المحسنين}: في عبادة الخالق ببذل الجهد والنُّصح فيها، وإلى عباد الله ببذل النفع والإحسان إليهم؛ نؤتيهم من جملة الجزاء على إحسانهم علماً نافعاً. ودلَّ هذا على أن يوسف وَفَّى مقام الإحسان، فأعطاه الله الحكم بين الناس والعلم الكثير والنبوة.