تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 11

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا لَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَ اِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
انھوں نے کہا اے ہمارے باپ! تجھے کیا ہے کہ تو یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا، حالانکہ بے شک ہم یقینا اس کے خیرخواہ ہیں۔ En
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں
En
انہوں نے کہا ابا! آخر آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ہم تو اس کے خیر خواه ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جناب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا: ﴿ یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف علیہ السلام کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَؔ ہم اس کے خیرخواہ ہیں یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال إخوة يوسف متوصِّلين إلى مقصدهم لأبيهم: {يا أبانا ما لكَ لا تأمَنَّا على يوسُفَ وإنَّا له لناصحونَ}؛ أي: لأيِّ شيءٍ يَدْخُلُكَ الخوفُ منَّا على يوسف من غير سبب ولا موجب، والحال أنَّا {له لناصحونَ}؛ أي: مشفقون عليه نودُّ له ما نودُّ لأنفسنا.

وهذا يدلُّ على أن يعقوب عليه السلام لا يترك يوسُفَ يذهب مع إخوته للبريَّة ونحوها.