تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفلق (113) — آیت 5

وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ En
اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے
En
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔
یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن شرِّ حاسدٍ إذا حَسَدَ}: والحاسدُ هو الذي يحبُّ زوال النِّعمة عن المحسود؛ فيسعى في زوالها بما يقدر عليه من الأسباب، فاحتيج إلى الاستعاذة بالله من شرِّه وإبطال كيده. ويدخل في الحاسد العاينُ؛ لأنَّه لا تصدر العين إلاَّ من حاسدٍ شرِّيرِ الطبع خبيث النفس.

فهذه السورة تضمَّنت الاستعاذة من جميع أنواع الشُّرور عموماً وخصوصاً، ودلَّت على أنَّ السِّحر له حقيقةٌ؛ يُخشى من ضرره، ويستعاذ بالله منه ومن أهله.