اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی خاص رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا، چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
En
اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے، ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ﻇالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا جس سے وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہوگئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَمَّاجَآءَاَمْرُنَا ﴾”اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔“ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّیْنَاشُعَیْبًاوَّالَّذِیْنَاٰمَنُوْامَعَهٗبِرَحْمَةٍمِّؔنَّاوَاَخَذَتِالَّذِیْنَظَلَمُواالصَّیْحَةُفَاَصْبَحُوْافِیْدِیَ٘ارِهِمْجٰؔثِمِیْنَ ﴾”تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے“ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما جاء أمرُنا}: بإهلاك قوم شعيب، {نجَّيْنا شُعيباً والذين آمنوا معه برحمةٍ منَّا وأخذتِ الذين ظلموا الصيحةُ فأصبحوا في ديارِهم جاثمينَ}: لا تَسْمَعُ لهم صوتاً، ولا ترى منهم حركةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔