تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّكُلًّالَّمَّالَیُوَفِّیَنَّهُمْرَبُّكَاَعْمَالَهُمْ﴾”اور جتنے لوگ ہیں، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)“ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗبِمَایَعْمَلُوْنَ ﴾”بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں۔“ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِیْرٌ ﴾”باخبر ہے“ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن كُلاًّ لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُم ربُّك أعمالَهم}؛ أي: لا بدَّ أن يقضي الله بينهم يوم القيامة بحكمه العدل، فيجازي كلاًّ بما يستحقُّه. {إنه بما يعملون}: من خير وشرٍّ، {خبيرٌ}: فلا يَخْفى عليه شيء من أعمالهم؛ دقيقِها وجليلِها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔