تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 111

وَ اِنَّ کُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمۡ رَبُّکَ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱۱﴾
اور بے شک ان سب کو جب (وقت آئے گا) تو یقینا تیرا رب انھیں ان کے اعمال ضرور پورے پورے دے گا، بے شک وہ اس سے جو وہ کر رہے ہیں، پوری طرح باخبر ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے
En
یقیناًان میں سے ہر ایک جب ان کے روبرو جائے گا تو آپ کا رب اسے اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وه جو کر رہے ہیں ان سے وه باخبر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اور جتنے لوگ ہیں، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ) یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں۔ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِیْرٌ باخبر ہے ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن كُلاًّ لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُم ربُّك أعمالَهم}؛ أي: لا بدَّ أن يقضي الله بينهم يوم القيامة بحكمه العدل، فيجازي كلاًّ بما يستحقُّه. {إنه بما يعملون}: من خير وشرٍّ، {خبيرٌ}: فلا يَخْفى عليه شيء من أعمالهم؛ دقيقِها وجليلِها.