تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكوثر (108) — آیت 1

اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ﴿۱﴾
بلاشبہ ہم نے تجھے کوثر عطا کی۔ En
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
En
یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر (اور بہت کچھ) دیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے: ﴿اِنَّـاۤ٘ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا، ایک نہر بھی ہے جس کو ﴿الْكَوْثَرَ کہا جاتا ہے۔ حوضِ کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے، جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول الله تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -[ممتنًّا عليه]: {إنَّا أعطيناكَ الكَوْثَرَ}؛ أي: الخير الكثير والفضل الغزير، الذي من جملته ما يعطيه اللهُ لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -[يوم القيامة] من النهر الذي يقال له: الكوثر ، ومن الحوض ؛ طولُه شهرٌ وعرضُه شهرٌ، ماؤه أشدُّ بياضاً من اللبن، وأحلى من العسل، آنيته عدد نجوم السماء في كثرتها واستنارتها، من شرب منه شربةً؛ لم يظمأ بعدها أبداً.