تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الهمزة (104) — آیت 8

اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤۡصَدَۃٌ ۙ﴿۸﴾
یقینا وہ ان پر ( ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے ۔ En
(اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے
En
وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا (السجدہ:32؍20) جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذه الحرارة البليغة، هم محبوسون فيها، قد أيسوا من الخروج منها، ولهذا قال: {إنَّها عليهم مؤصدةٌ}؛ أي: مغلقة، {في عَمَدٍ}: من خلف الأبواب، {ممدَّدةٍ}: لئلا يخرجوا منها؛ {كلَّما أرادوا أن يخرجوا منها أعيدوا فيها}، نعوذ بالله من ذلك، ونسأله العفو والعافية.