تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الهمزة (104) — آیت 1

وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣ ۙ﴿۱﴾
بڑی ہلاکت ہے ہر بہت طعنہ دینے والے، بہت عیب لگانے والے کے لیے۔ En
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے
En
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیْلٌ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّ٘كُ٘لِّ هُمَزَةٍ لُّ٘مَزَةٍ ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويلٌ}؛ أي: وعيدٌ ووبالٌ وشدَّة عذابٍ، {لكلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ}؛ أي: الذي يهمز الناس بفعله ويلمزهم بقوله؛ فالهمَّاز: الذي يَعيبُ الناس ويطعُنُ عليهم بالإشارة والفعل، واللَّمَّاز: الذي يعيبهم بقوله.