تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القارعة (101) — آیت 8

وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾
اور لیکن وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہو گئے۔ En
اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے
En
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَ٘رَامًا (القرقان:25؍65) بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔
﴿ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْ اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِیَةٌ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا من خفَّت مَوازينُه}: بأن لم تكنْ له حسناتٌ تقاوم سيئاتِه، {فأمُّه هاويةٌ}؛ أي: مأواهُ ومسكنُه النارُ التي من أسمائها الهاوية، تكون له بمنزلة الأمِّ الملازمة؛ كما قال تعالى: {إنَّ عذابَها كانَ غَراماً}. وقيل: إنَّ معنى ذلك: فأمُّ دماغه هاويةٌ في النار؛ أي: يُلقى في النار على رأسه، {وما أدراكَ ما هِيَهْ}: وهذا تعظيمٌ لأمرها. ثم فسَّرها بقوله: {نارٌ حاميةٌ}؛ أي: شديدةُ الحرارة، قد زادت حرارتها على حرارة نار الدنيا بسبعين ضعفاً. نستجير بالله منها.