تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القارعة (101) — آیت 1

اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ کھٹکھٹانے والی۔ En
کھڑ کھڑانے والی
En
کھڑکھڑا دینے والی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلْقَارِعَةُ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلْقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الْقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ۰۰ کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{القارعةُ}: من أسماء يوم القيامة، سمِّيت بذلك لأنَّها تقرع الناس وتزعِجُهم بأهوالها، ولهذا عظَّم أمرها وفخَّمه بقوله: {القارعةُ. ما القارعةُ. وما أدراكَ ما القارعةُ}.