تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العاديات (100) — آیت 11

اِنَّ رَبَّہُمۡ بِہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّخَبِیۡرٌ ٪﴿۱۱﴾
بے شک ان کا رب اس دن ان کے متعلق یقینا خوب خبر رکھنے والا ہے۔ En
بےشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا
En
بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِیْرٌ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ ربَّهم بهم يومئذٍ لخبيرٌ}؛ أي: مطلع على أعمالهم الظاهرة والباطنة، الخفيَّة والجليَّة، ومجازيهم عليها، وخصَّ خبرهم بذلك اليوم مع أنه خبيرٌ بهم كلَّ وقتٍ؛ لأنَّ المراد بهذا الجزاء على الأعمال الناشئ عن علم الله واطِّلاعه.