تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العاديات (100) — آیت 1

وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا ۙ﴿۱﴾
قسم ہے ان ( گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں! En
ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں
En
ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا: ﴿ وَالْعٰدِیٰؔتِ ضَبْحًا یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال: {والعادياتِ ضَبْحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها.