تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 87

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَ اَخِیۡہِ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِکُمَا بِمِصۡرَ بُیُوۡتًا وَّ اجۡعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمۡ قِبۡلَۃً وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔ En
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
En
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لیے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو اور نماز کے پابند رہو اور آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰؔى وَاَخِیْهِ اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی۔ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انھوں نے چاہا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ﴿ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِـمِصْرَ بُیُوْتًا کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ۔ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مصر میں اپنے لیے کچھ گھر مقرر کر لیں جہاں وہ چھپ سکیں۔ ﴿وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ۔ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کر سکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ ﴿وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰ٘وةَ اورنماز قائم کرو کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبۂ دین کی خوشخبری سنا دیجیے کیونکہ تنگی کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ تنگی آتی ہے۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأوحينا إلى موسى وأخيه}: حين اشتدَّ الأمر على قومهما من فرعون وقومه وحرصوا على فتنتهم عن دينهم، {أن تبوَّآ لقومكما بمصر بيوتاً}؛ أي: مروهم أن يجعلوا لهم بيوتاً يتمكَّنون به من الاستخفاء فيها، {واجعلوا بيوتَكم قبلةً}؛ أي: اجعلوها محلاًّ تصلون فيها حيث عجزتم عن إقامة الصلاة في الكنائس والبيع العامَّة. {وأقيموا الصلاة}: فإنها معونةٌ على جميع الأمور، {وبشِّر المؤمنين}: بالنصر والتأييد وإظهار دينهم؛ فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسراً. وحين اشتدَّ الكرب وضاق الأمر؛ فرَّجه الله ووسعه.