تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 8

اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸﴾
یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔ En
ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے
En
ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اُولٰٓىِٕكَ جن کا یہ وصف ہے ﴿ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ یعنی ان کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہے جہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے۔ ﴿ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ بہ سبب اس کے جو کماتے تھے جہنم کا یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے کفر، شرک اور مختلف قسم کے دیگر گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نافرمانوں کے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والے اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك}: الذين هذا وصفُهم، {مأواهُمُ النار}؛ أي: مقرُّهم ومسكنُهم التي لا يرحلون عنها؛ {بما كانوا يكسِبون}: من الكفر والشرك وأنواع المعاصي.