موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جب کہ وه تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حاﻻنکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَقُوْلُوْنَلِلْحَقِّلَمَّاجَآءَكُمْ﴾”کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا“ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحْرٌهٰؔذَا﴾”کیا یہ جادو ہے؟“ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَایُفْ٘لِحُالسّٰؔحِرُوْنَ﴾”اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔“ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا {قال} لهم {موسى} موبخاً لهم عن ردِّهم الحقَّ الذي لا يردُّه إلا أظلم الناس: {أتقولون للحقِّ لما جاءكم}؛ أي: أتقولون: إنَّه سحرٌ مبينٌ. {أسحرٌ هذا}؛ أي: فانظروا وصفه وما اشتمل عليه؛ فبمجرَّد ذلك يجزم بأنه الحق، {ولا يفلح الساحرون}: لا في الدنيا ولا في الآخرة؛ فانظروا لمن تكون له العاقبة، ولمن له الفلاحُ وعلى يديه النجاحُ، وقد علموا بعد ذلك وظهر لكلِّ أحدٍ أن موسى عليه السلام هو الذي أفلح، وفاز بظَفَر الدُّنيا والآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔