تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 75

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے بہت تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ En
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے
En
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوْسٰؔى اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوْنَ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰیٰتِنَا اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسْتَكْبَرُوْا پس انھوں نے تکبر کیا۔ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ اور وہ گناہ گار لوگ تھے یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ثم بعثْنا من بعد هؤلاء الرسل الذين أرسلهم الله إلى القوم المكذِّبين المهلَكين {موسى}: ابن عمران كليم الرحمن أحد أولي العزم من المرسلين وأحد الكبار المقتدى بهم المنزَّل عليهم الشرائع المعظَّمة الواسعة. {و} جعلنا معه أخاه {هارون} وزيراً. بعثناهما {إلى فرعون ومَلَئِهِ}؛ أي: كبار دولته ورؤسائهم؛ لأنَّ عامتهم تَبَعٌ للرؤساء، {بآياتنا}: الدالة على صدق ما جاء به من توحيد الله والنهي عن عبادة ما سوى الله تعالى. {فاستكبروا}: عنها ظلماً وعلوًّا بعدما استيقنوها، {وكانوا قوماً مجرِمين}؛ أي: وصفهم الإجرام والتكذيب.