تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 69

قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾
کہہ دے بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ En
کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے
En
آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں، وه کامیاب نہ ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ کہہ دیجیے! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کر سکیں گے، وہ دنیا کی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزا چکھائے گا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ (آل عمران: 3؍117) اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل إنَّ الذين يفترون على الله الكذبَ لا يفلحون}؛ أي: لا ينالون مطلوبهم ولا يحصُل لهم مقصودهم، وإنما يتمتَّعون في كفرهم وكذبهم في الدُّنيا قليلاً، ثم ينتقلون إلى الله ويرجعون إليه، فيذيقهم {العذاب الشديد بما كانوا يكفرون}، وما ظلمهم الله، ولكن أنفسهم يظلمون.