سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔
En
سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکا کی عبادت کررہے ہیں کس چیز کی اتباع کر رہے ہیں۔ محض بے سند خیال کی اتباع کر رہے ہیں اور محض اٹکلیں لگا رہے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جیسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے سے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک، اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَایَتَّ٘بِـعُالَّذِیْنَیَدْعُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِشُ٘رَؔكَآءَ١ؕاِنْیَّتَّبِعُوْنَاِلَّاالظَّ٘نَّ ﴾”اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے، سو یہ کچھ نہیں مگر پیروی کرنے والے ہیں اپنے گمان کی“ یعنی وہ ظن اور گمان، جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا ﴿ وَاِنْهُمْاِلَّایَخْرُصُوْنَ ﴾”اور وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔“ یعنی وہ اس بارے میں محض اندازوں اور بہتان و افترا سے کام لیتے ہیں۔ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے میں اگر وہ سچے ہیں تو ان کے وہ اوصاف سامنے لائیں جو ان کو ذرہ بھر عبادت کا مستحق قرار دیتے ہوں۔ وہ کبھی ایسا نہیں کر سکیں گے۔ کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو کوئی چیز پیدا کر سکتا ہو؟ یا وہ رزق عطا کرتا ہو؟ یا وہ مخلوقات میں سے کسی چیز کا مالک ہو؟ یا وہ گردش لیل و نہار کی تدبیر کرتا ہو؟ جس نے اسے لوگوں کی روزی کا سبب بنایا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أن له ما في السماوات والأرض خلقاً وملكاً [وعبيدًا]، يتصرَّف فيهم بما يشاء من أحكامه؛ فالجميع مماليك لله مسخَّرون مدبَّرون لا يستحقُّون شيئاً من العبادة وليسوا شركاء لله بوجه من الوجوه، ولهذا قال: {وما يتَّبع الذين يدعون من دون الله شركاء إن يتَّبِعون إلاَّ الظَّنَّ}: الذي لا يغني من الحقِّ شيئاً، {وإنْ هم إلاَّ يخرصُون}: في ذلك خرصٌ وإفك وبهتان؛ فإن كانوا صادقين في أنها شركاء لله؛ فليُظْهِروا من أوصافها ما تستحقُّ به مثقال ذرَّة من العبادة؛ فلن يستطيعوا؛ فهل منهم أحدٌ يخلق شيئاً أو يرزق أو يملك شيئاً من المخلوقات أو يدبِّر الليل والنهار الذي جعله الله قياماً للناس؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔