تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 52

ثُمَّ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ۚ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۲﴾
پھر ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا، کہا جائے گا چکھو ہمیشگی کا عذاب، تمھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو تم کمایا کرتے تھے۔ En
پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے
En
پھر ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے کیے کا ہی بدلہ ملا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا۔ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ چکھو عذاب ہمیشگی کا یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لیے دور نہ ہوگا ﴿هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ اسی چیز کا بدلہ تمھیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمھیں جزا دی جا رہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم قيل للذين ظلموا}: حين يوفون أعمالهم يوم القيامة: {ذوقوا عذابَ الخُلْدِ}؛ أي: العذاب الذي تخلدون فيه، ولا يَفْتُرُ عنكم ساعة. {هل تُجْزَوْنَ إلا بما كنتُم تكسِبون}: من الكفر والتكذيب والمعاصي.