تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّقِیْلَلِلَّذِیْنَظَلَمُوْا﴾”پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا۔“ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ذُوْقُوْاعَذَابَالْخُلْدِ﴾”چکھو عذاب ہمیشگی کا“ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لیے دور نہ ہوگا ﴿هَلْتُجْزَوْنَاِلَّابِمَاكُنْتُمْتَكْسِبُوْنَ﴾”اسی چیز کا بدلہ تمھیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے“ یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمھیں جزا دی جا رہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم قيل للذين ظلموا}: حين يوفون أعمالهم يوم القيامة: {ذوقوا عذابَ الخُلْدِ}؛ أي: العذاب الذي تخلدون فيه، ولا يَفْتُرُ عنكم ساعة. {هل تُجْزَوْنَ إلا بما كنتُم تكسِبون}: من الكفر والتكذيب والمعاصي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔