تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْاَرَءَیْتُمْاِنْاَتٰىكُمْعَذَابُهٗبَیَاتًا﴾”کہہ دیجیے! بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔“ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ ﴿اَوْنَهَارًا﴾”یا دن کو“ یعنی تمھاری غفلت کے وقت ﴿مَّاذَایَسْتَعْجِلُمِنْهُالْمُجْرِمُوْنَ ﴾”تو وہ کیا چیز ہے جس کے لیے مجرمین جلدی کا مطالبہ کررہے ہیں؟“ یعنی وہ کون سی بشارت ہے جس کے لیے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {قل أرأيتُم إن أتاكُم عذابُه بياتاً}: وقت نومكم بالليل، {أو نهاراً}: في وقت غفلتكم، {ماذا يَسْتَعْجِلُ منه المجرمون}؛ أي: أيَّ بشارة استعجلوا بها، وأيَّ عقاب ابتدروه؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔