اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔
En
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنْكَذَّبُوْكَ ﴾”اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں “ تو آپ ان کو اپنی دعوت پہنچاتے رہیے، ان کے حساب میں سے کچھ بھی آپ کے ذمے نہیں اور نہ آپ کا حساب ان کے ذمے ہے، ہر شخص کا عمل اسی کے لیے ہے۔ فرمایا: ﴿ فَقُ٘لْلِّیْعَمَلِیْوَلَكُمْعَمَلُكُمْ١ۚاَنْتُمْبَرِیْؔـٓــُٔوْنَؔمِمَّؔاۤاَعْمَلُوَاَنَابَرِیْٓءٌمِّؔمَّؔاتَعْمَلُوْنَ ﴾”آپ کہہ دیجیے! میرے واسطے میرا عمل ہے اور تمھارے واسطے تمھارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمھارے عملوں سے بری ہوں “ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے۔ ﴿ مَنْعَمِلَصَالِحًافَلِنَفْسِهٖوَمَنْاَسَآءَفَعَلَیْهَا﴾ (حم السجدۃ: 41؍46) ”جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے، جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی پر ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن كَذَّبوكَ}: فاستمرَّ على دعوتك، وليس عليك من حسابهم من شيء، وما من حسابِكَ عليهم من شيءٍ، لكلٍّ عمله. {فقل لي عملي ولكم عمُلكم أنتم بريئون مما أعملُ وأنا بريٌ مما تعملون}؛ كما قال تعالى: {مَنْ عَمِلَ صالحاً فلنفسِهِ ومن أساء فَعَلَيْها}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔