تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 39

بَلۡ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمۡ یُحِیۡطُوۡا بِعِلۡمِہٖ وَ لَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾
بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انھوں نے احاطہ نہیں کیا، حالانکہ اس کی اصل حقیقت ابھی ان کے پاس نہیں آئی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ سو دیکھ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ En
حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا
En
بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہٴ علمی میں نہیں ﻻئے اور ہنوز ان کو اس کا اخیر نتیجہ نہیں ملا۔ جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، سو دیکھ لیجئے ان ﻇالموں کا انجام کیسا ہوا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ چیز جس نے ان کو قرآن، جو حق پر مشتمل ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں، کی تکذیب پر آمادہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اس کا علم نہیں رکھتے۔ اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوتے اور اگر انھوں نے اس کو سمجھ لیا ہوتا جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے تو وہ ضرور اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے۔ اسی طرح اب تک ان کے پاس ان کے ساتھ کیے ہوئے اس وعدے کی حقیقت، کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو سزا دے گا... نہیں آئی۔ اور یہ تکذیب جو ان کی طرف سے صادر ہوئی ہے ان سے پہلے لوگوں کی طرف سے صادر ہونے والی تکذیب کی جنس سے ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُ٘رْؔ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس دیکھو، کیسا ہوا انجام ظالموں کا اس سے مراد وہ عذاب ہے جس نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا، لہٰذا ان لوگوں کو تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل ہو جائے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی اور ہلاک ہونے والی قوموں پر نازل ہوا۔ یہ آیت کریمہ تمام امور میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس سے یہ راہ نمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں پوری حقیقت حال معلوم کیے بغیر اسے قبول یا رد کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والذي حملهم على التكذيب بالقرآن المشتمل على الحقِّ الذي لا حقَّ فوقه أنَّهم لم يحيطوا به علماً؛ فلو أحاطوا به علماً وفهِموه حقَّ فهمِهِ؛ لأذعنوا بالتصديق به، وكذلك إلى الآن لم يأتهم تأويلُهُ الذي وعدهم أن يُنْزِلَ بهم العذابَ، ويُحِلَّ بهم النَّكالَ، وهذا التكذيب الصادرُ منهم من جنس تكذيب مَن قَبْلِهم، ولهذا قال: {كذلك كذَّب الذين من قبلهم فانظُرْ كيف كان عاقبةُ الظالمينَ}: وهو الهلاك الذي لم يبقِ منهم أحداً؛ فليحذر هؤلاء أن يستمرُّوا على تكذيبهم، فيحلَّ بهم ما أحلَّ بالأمم المكذبين والقرون المهلكين.

وفي هذا دليلٌ على التثبُّت في الأمور، وأنه لا ينبغي للإنسان أن يبادِرَ بقَبول شيء أو ردِّه قبل أن يحيطَ به علماً.