تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَکۡثَرُہُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی، بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ En
اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے
En
اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کررہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کو خوش نما بنا دینا شیطان کا کام ہے، یہ قبیح ترین بہتان اور سب سے بڑی گمراہی ہے لیکن یہی اس کا دل پسند اعتقاد بن گیا ہے اور وہ اسی کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَا یَتَّ٘بِـعُ اَ كْثَرُهُمْ اور نہیں پیروی کرتے ان کے اکثر لوگ۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے گھڑے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں ﴿اِلَّا ظَنًّا مگر گمان کی۔ یعنی وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے شریکوں کو نہیں پکارتے کیونکہ اصل میں عقلاً و نقلاً اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں، یہ لوگ محض اپنے ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں ﴿ اِنَّ الظَّ٘نَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْـًٔـا اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ پس انھوں نے ان کو معبود کے نام سے موسوم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادت بھی کرنے لگے ﴿ اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰ بَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰ٘نٍ (النجم: 53؍23) وہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو خوب جانتا ہے اور وہ ان افعال پر انھیں سخت سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فالجواب: إنّ هذا من تزيين الشيطان للإنسان أقبحَ البهتان وأضلَّ الضلال، حتى اعتقد ذلك، وألفه، وظنَّه حقًّا وهو لا شيء، ولهذا قال: {وما يتَّبِعُ الذين يدعون من دون الله شركاء}؛ أي: ما يتبعون في الحقيقة شركاء لله؛ فإنه ليس لله شريكٌ أصلاً عقلاً ولا نقلاً، وإنَّما يتَّبِعون الظَّنَّ، و {إنَّ الظنَّ لا يغني من الحقِّ شيئاً}: فسمَّوها آلهة وعبدوها مع الله؛ {إن هي إلا أسماءٌ سمَّيْتموها أنتم وآباؤكم ما أنزلَ الله بها من سلطانٍ}. {إنَّ الله عليمٌ بما يفعلون}: وسيجازيهم على ذلك بالعقوبة البليغة.