کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بناتا ہو؟ کہہ دے اللہ ہی پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بناتا ہے، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟
En
(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
آپ یوں کہیے کہ کیا تمہارے شرکا میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوباره بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا۔ پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ قُ٘لْهَلْمِنْشُ٘رَؔكَآىِٕكُمْمَّنْیَّبْدَؤُاالْخَلْقَ ﴾”کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو“ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّیُعِیْدُهٗ﴾”پھر اسے دوبارہ زندہ کرے“ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً عجز آلهة المشركين وعدم اتِّصافها بما يوجب اتِّخاذها آلهةً مع الله: {قل هل مِنْ شركائِكم مَن يَبْدَأ الخلقَ}؛ أي: يبتديه، {ثم يُعيده}: وهذا استفهامٌ بمعنى النفي والتقرير؛ أي: ما منهم أحدٌ يبدأ الخلق ثم يعيدُه، وهي أضعف من ذلك وأعجزُ، {قل الله يبدأ الخَلْق ثم يُعيده}: من غير مشاركٍ ولا معاونٍ له على ذلك. {فأنَّى تؤفَكون}؛ أي: تصرفون وتُحرفون عن عبادة المنفرد بالابتداء والإعادة إلى عبادة مَنْ لا يَخْلُقُ شيئاً وهم يُخْلَقون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔