تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 2

اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنۡہُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕؔ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲﴾
کیا لوگوں کے لیے ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرا اور جو لوگ ایمان لائے انھیں بشارت دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا بے شک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ En
کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
En
کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر ومرتبہ ملے گا۔ کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لیے انھیں سخت تعجب ہے۔ ﴿ اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد پر وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں اس کی ناراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے ان کو نصیحت کرے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اور خوش خبری دیں ایمان والوں کو جو صدق دل سے ایمان لائے ہیں ﴿ اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ کہ ان کے لیے مقام صدق ہے ان کے رب کے پاس یعنی ان کے لیے اپنے رب کے پاس وافر جزا اور جمع کیا ہوا ثواب ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے صدق پر مبنی اعمال صالحہ پیش کیے تھے۔ کفار کو اس عظیم شخص پر سخت تعجب ہے اور اس تعجب نے ان کو اس کے انکار پر آمادہ کیا۔ ﴿ قَالَ الْ٘كٰفِرُوْنَ اور کفار (اس کے بارے میں) کہتے ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ یہ تو واضح طور پر جادوگر ہے۔ ان کے زعم کے مطابق اس کا جادوگر ہونا کسی پر مخفی نہیں اور یہ ان کی سفاہت اور عناد کی دلیل ہے۔
وہ ایسی بات پر تعجب کرتے ہیں جو ایسی انوکھی چیز نہیں جس پر تعجب کیا جائے۔ تعجب تو ان کی جہالت اور اس چیز پر ہونا چاہیے کہ انھیں اپنے مصالح کی معرفت حاصل نہیں۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے ایمان نہیں لائے۔ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھی میں سے چن کر رسول مبعوث کیا ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ پس انھوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کے دین کے ابطال کے سخت حریص ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ فأعرض أكثرهُم فهم لا يعلمون، فتعجبوا {أن أوْحَيْنا إلى رجل منهم أن أنذِرِ الناس}: عذابَ الله، وخوِّفْهم نِقَمَ الله، وذكِّرهم بآيات الله، {وبشِّر الذين آمنوا}: إيماناً صادقاً {أنَّ لهم قَدَمَ صدقٍ عند ربِّهم}؛ أي: لهم جزاء موفر وثوابٌ مذخور عند ربِّهم بما قدَّموه وأسلفوه من الأعمال الصالحة الصادقة، فتعجَّب الكافرون من هذا الرجل العظيم تعجُّباً حملهم على الكفر به! فَـ {قال الكافرون} عنه: {إنَّ هذا لَساحرٌ مُبينٌ}؛ أي: بيِّن السحر، لا يَخْفى بزعمهم على أحدٍ، وهذا مِن سَفَهِهِم وعنادهم؛ فإنَّهم تعجَّبوا من أمر ليس مما يُتَعَجَّب منه ويُستغرب، وإنما يُتَعَجَّب من جهالتهم وعدم معرفتهم بمصالحهم؛ كيف لم يؤمنوا بهذا الرسول الكريم الذي بَعَثَهُ الله من أنفسهم؛ يعرفونه حقَّ المعرفة، فردُّوا دعوته، وحرصوا على إبطال دينه؟! والله متمُّ نوره ولو كره الكافرون.