تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 14

ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پھر ان کے بعد ہم نے تمھیں زمین میں جانشین بنا دیا، تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ En
پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو
En
پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ پھر بنایا ہم نے تم کو یعنی اے مخاطبو! ﴿ خَلٰٓىِٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُ٘رَؔ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ زمین میں جانشین ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت حاصل کی اور نصیحت پکڑی، اللہ تعالیٰ کی آیات کی اتباع کی اور اس کے انبیاء و رسل کی تصدیق کی تو تم دنیا و آخرت میں نجات پاؤ گے۔ اور اگر تم نے بھی وہی کام کیے جو تم سے پہلے ظالم قوموں نے کیے تھے تو تم پر بھی وہی عذاب بھیج دیا جائے گا جو ان پر بھیجا گیا تھا اور جس نے تنبیہ کر دی اس نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم جعلناكم}؛ أيها: المخاطبون {خلائفَ في الأرض من بعدِهِم لننظر كيف تعملون}؛ فإن أنتم اعتبرتُم، واتَّعظتم بمن قبلكم، واتَّبعتم آيات الله، وصدَّقتم رسله؛ نجوتُم في الدنيا والآخرة، وإن فعلتُم كفعل الظالمين قبلكم؛ أحلَّ بكم ما أحلَّ بهم، ومَنْ أنذرَ فقد أعذرَ.