[7] قرآن میں اکثر مقامات پر انسان کو متنبہ کرنے کے لیے اس کی آنکھوں اور اس کے کانوں یا بصارت اور سماعت کا ذکر آیا ہے۔ جبکہ یہاں آنکھوں کے ساتھ کانوں کے بجائے انسان کے اعضائے قوت گویائی کا ذکر کیا گیا ہے جن سے وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو آنکھیں، کان، کان یا زبان دی گئی ہے تو یہ گائے بھینسوں کی آنکھ، کان یا زبان جیسی نہیں ہے کہ وہ انہیں صرف اپنے دنیوی مفادات کے لیے استعمال میں لائے۔ بلکہ اسے جانوروں سے زائد قوت تمیز، عقل و شعور بھی دی گئی ہے تاکہ وہ انہیں اعضاء کو کام میں لا کر اپنے مالک حقیقی کو پہچانے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔