وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے مومنوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
En
جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے
جولوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے
En
79۔ (ان منافقوں میں کچھ ایسے ہیں) جو خوشی سے صدقہ کرنے والے [94] مومنوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور ایسے (تنگدست) مسلمانوں پر بھی جو اپنی مشقت (کی کمائی) کے سوائے کچھ نہیں رکھتے۔ یہ منافق ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان کا مذاق انہی پر ڈال دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا
[94] غزوہ تبوک کے لئے چندہ دینے والے:۔
غزوہ تبوک کے موقعہ پر قحط سالی بھی تھی۔ ابھی فصلیں بھی نہیں پکی تھیں۔ سفر بھی دور دراز کا تھا۔ مقابلہ بھی رومیوں سے تھا اور اسلحہ اور سواری کی بھی خاصی قلت تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فنڈ کے لیے پر زور اپیل کی جس کے نتیجہ میں سیدنا عثمانؓ اور سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اتنا چندہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔ سیدنا عمرؓ اپنے گھر کا آدھا اثاثہ بانٹ کر جہاد فنڈ کے لیے لے آئے اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ سارا ہی اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے اور ہر مسلمان نے اس فنڈ میں حسب توفیق حصہ لیا۔ نادار لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اور اغنیاء نے اپنی حیثیت اور رغبت کے مطابق۔ ایک صحابی ابو عقیل نے رات بھر مزدوری کی جس کی اجرت ایک صاع کھجور تھی۔ ان میں سے آدھا صاع گھر لے گیا اور آدھا صاع لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة توبه زير آيت هذا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدھے صاع سے اتنی خوشی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ڈھیر کے اوپر پھیلا دیں۔ یہ در اصل آدھا صاع کھجور کی قدر و قیمت نہ تھی بلکہ اس نیت، شوق اور رغبت کی تھی جس کی بنا پر اس نے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر آدھا صاع حاضر کر دیا تھا۔
چندہ دینے والوں کو منافقوں کی طعنہ زنی:۔
اس موقعہ پر منافقوں کو پھبتیاں کسنے کا خوب موقع ملا۔ اگر کسی نے جی کھول کر چندہ دیا ہوتا تو کہتے کہ یہ سب کچھ دکھلاوا اور ریاکاری ہے۔ اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو کہتے کہ اتنے مال سے کونسی جنگی ضرورت پوری ہو سکتی ہے یہ لوگ تو لہو لگا کے شہیدوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کو اس کی کیا پروا تھی۔ غرض ان کی طعن و ملامت سے کوئی بھی نہ بچتا تھا۔ یہی پس منظر اس آیت کا شان نزول ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں۔ جب ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا ہم اس وقت مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ ابو عقیل (اسی مزدوری سے) آدھا صاع کھجور لے کر آئے تو منافق کہنے لگے: ابو عقیل کی خیرات کی بھلا اللہ کو کیا پروا تھی۔ ایک اور آدمی (عبد الرحمن بن عوفؓ) بہت سا مال لائے تو منافق کہنے لگے کہ اس نے ریا (ناموری) کے لیے اتنا مال خیرات کیا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ مسلم۔ كتاب الزكوٰة باب الحمل باجرة يتصدق بها]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔