تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینار لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں رکھ دیے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا: ”آج کے (اس عمل کے) بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا…: ۳۷۰۱] ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بے نیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟) تو یہ آیت اتری۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب: اتقوا النار ولو بشق تمرۃ …: ۱۴۱۵] ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری: «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ» [بخاری، التفسیر، باب قولہ: { الذین یلمزون المطوعین… }: ۴۶۶۹]
➋ { سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدھے صاع سے اتنی خوشی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ڈھیر کے اوپر پھیلا دیں۔ یہ در اصل آدھا صاع کھجور کی قدر و قیمت نہ تھی بلکہ اس نیت، شوق اور رغبت کی تھی جس کی بنا پر اس نے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر آدھا صاع حاضر کر دیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ جب صدقات دینے کی آیت اتری ہے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اپنے صدقات لیے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ایک صاحب نے دل کھول کر بڑی رقم دی، اسے تو ان منافقوں نے ریاکار کا خطاب دیا اور ایک صاحب بیچارے مسکین آدمی تھی صرف ایک صاع اناج لائے تھے، انہیں کہا کہ اس کے اس صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی؟ اس کا بیان اس آیت میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4668]
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع میں فرمایا کہ ”جو صدقہ دے گا میں اس کی بابت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دوں گا۔“ اس وقت ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے عمامہ میں سے کچھ دینا چاہا لیکن پھر لپیٹ لیا۔ اتنے میں ایک صاحب جو سیاہ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ایک اونٹنی لے کر آگے بڑھے جس سے زیادہ اچھی اونٹنی بقیع بھر میں نہ تھی۔ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت اچھا“ اس نے کہا: ”سنبھال لیجئے۔“ اس پر کسی نے کہا اس سے تو اونٹنی ہی اچھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: ”تو جھوٹا ہے یہ تجھ سے اور اس سے تین گنا اچھا ہے افسوس! سینکڑوں اونٹ رکھنے والے تجھ جیسوں پر افسوس۔ تین مرتبہ یہی فرمایا، مگر وہ جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح کرے“، اور لپیں بھر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا، یعنی راہ اللہ ہر نیک کام میں خرچ کرے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ چالیس 40 اوقیہ چاندی لائے اور ایک غریب انصاری ایک صاع اناج لائے، منافقوں نے ایک کو ریاکار بتلایا دوسرے کے صدقے کو حقیر بتلایا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17018:ضعیف]
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوگوں نے مال خیرات دینا اور جمع کرنا شروع کیا۔ ایک صاحب ایک صاع کھجوریں لے آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھجوروں کے دو صاع تھے ایک میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روک لیا اور ایک لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی جمع شدہ مال میں ڈال دینے کو فرمایا اس پر منافق بکواس کرنے لگے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے بے نیاز ہے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: ”میرے پاس ایک سو اوقیہ سونا ہے سب کو صدقہ کرتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہوش میں بھی ہو“؟ آپ نے جواب دیا ہاں ہوش میں ہوں۔ فرمایا: ”پھر کیا کر رہا ہے“؟ آپ نے فرمایا: ”سنو! میرے پاس آٹھ ہزار ہیں جن میں سے چار ہزار تو میں اللہ تعالیٰ کو قرض دے رہا ہوں اور چار ہزار اپنے لیے رکھ لیتا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے جو تو نے رکھ لیا ہے اور جو تو نے خرچ کر دیا ہے۔
بنو عجلان کے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما نے بھی اس وقت بڑی رقم خیرات کی تھی ایک سو وسق کجھوریں دی تھیں۔ منافقوں نے اسے ریاکاری پر محمول کیا تھا۔ اپنی محنت مزدوری کی تھوڑی سی خیرات دینے والے ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ قبیلہ بنو انیف کے شخص تھے ان کے ایک صاع خیرات پر منافقوں نے ہنسی اور ہجو کی تھی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ چندہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت کو جہاد پر روانہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے دو ہزار دیئے تھے اور دو ہزار رکھے تھے دوسرے بزرگ نے رات بھر کی محنت میں دو صائع کھجوریں حاصل کر کے ایک صائع رکھ لیں اور ایک صائع دے دیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17029:ضعیف]
یہ سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے رات بھر اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے رہے تھے۔ ان کا نام حجاب تھا۔ اور قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ثعلبہ تھا۔ پس منافقوں کے اس تمسخر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی بدلہ لیا، ان منافقوں کے لیے اخروی المناک عذاب ہیں۔ اور ان کے اعمال کا ان عملوں جیسا ہی برا بدلہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا أيضاً من مخازي المنافقين، فكانوا قبَّحهم الله لا يدعون شيئاً من أمور الإسلام والمسلمين يرون لهم مقالاً؛ إلا قالوا وطعنوا بغياً وعدواناً، فلما حثَّ الله ورسوله على الصدقة؛ بادر المسلمون إلى ذلك، وبذلوا من أموالهم كل على حسب حاله، منهم المكثر ومنهم المقل، فيلمزون المكثر منهم بأنَّ قصدَه بنفقته الرياء والسمعة، وقالوا للمقلِّ الفقير: إنَّ الله غنيٌّ عن صدقة هذا، فأنزل الله تعالى: {الذين يَلْمِزون}؛ أي: يعيبون ويطعنون {المُطَّوِّعين من المؤمنين في الصدقات}: فيقولون: مراؤون قصدُهم الفخر والرياء {و} يلمزون {الذين لا يَجِدون إلا جُهْدَهم}: فيخرِجون ما استطاعوا ويقولون: الله غنيٌّ عن صدقاتهم، {فيسخرون منهم}، فقابلهم الله على صنيعهم بأن سَخِرَ منهم، {ولهم عذابٌ أليم}؛ فإنَّهم جمعوا في كلامهم هذا بين عدة محاذير:
منها: تتبُّعهم لأحوال المؤمنين وحرصهم على أن يجدوا مقالاً يقولونه فيهم، والله يقول: {إنَّ الذين يحبُّون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذابٌ أليمٌ}.
ومنها: طعنهم بالمؤمنين لأجل إيمانهم كفراً بالله تعالى وبغضاً للدين.
ومنها: أن اللَّمز محرمٌ، بل هو من كبائر الذنوب في أمور الدنيا، وأما اللَّمز في أمر الطاعة؛ فأقبحُ وأقبح.
ومنها: أنَّ من أطاع الله وتطوَّع بخَصْلةٍ من خصال الخير؛ فإنَّ الذي ينبغي إعانته وتنشيطه على عمله، وهؤلاء قصدوا تثبيطهم بما قالوا فيهم، وعابوهم عليه.
ومنها: أنَّ حكمهم على من أنفق مالاً كثيراً بأنه مراءٍ غلطٌ فاحشٌ وحكم على الغيب ورجمٌ بالظن، وأيُّ شرٍّ أكبر من هذا؟!
ومنها: أن قولهم لصاحب الصدقة القليلة: اللهُ غنيٌّ عن صدقة هذا! كلامٌ مقصوده باطلٌ؛ فإنَّ الله غنيٌ عن صدقة المتصدِّق بالقليل والكثير، بل وغني عن أهل السماوات والأرض، ولكنه تعالى أمر العباد بما هم مفتقرون إليه؛ فالله وإن كان غنيًّا عنه؛ فهم فقراء إليه؛ {فمن يعملْ مثقال ذرَّةٍ خيراً يره}، وفي هذا القول من التثبيط عن الخير ما هو ظاهرٌ بيّن، ولهذا كان جزاؤهم أن يسخر الله منهم، {ولهم عذابٌ أليمٌ}.