ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 79

اَلَّذِیۡنَ یَلۡمِزُوۡنَ الۡمُطَّوِّعِیۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمۡ فَیَسۡخَرُوۡنَ مِنۡہُمۡ ؕ سَخِرَ اللّٰہُ مِنۡہُمۡ ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۹﴾
وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے مومنوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ En
جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے
En
جولوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت79) ➊ {اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ …: الْمُطَّوِّعِيْنَ } باب تفعل سے اسم فاعل ہے جو اصل میں {مُتَطَوِّعِيْنَ} تھا۔ جو لوگ فرض زکوٰۃ کے علاوہ مزید مال خوشی سے خرچ کرتے ہیں۔ جہد کا معنی محنت و مشقت ہے، یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں مگر محنت مشقت کرکے کمایا ہوا تھوڑا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے، لیکن مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے، جب کوئی شخص زیادہ چندہ لاتا تو یہ اسے ریا کار کہتے اور جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لا کر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔ یہ وہ موقع تھا جب عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے آئے اس خیال سے کہ اگر بڑھ سکا تو آج ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو گھر کا سارا مال لے آئے تھے۔ [ترمذی، المناقب، باب رجاؤہ أن یکون أبوبکر…: ۳۶۷۵، وقال حسن صحیح وحسنہ الألبانی]
عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینار لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں رکھ دیے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا: آج کے (اس عمل کے) بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا…: ۳۷۰۱] ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بے نیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟) تو یہ آیت اتری۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب: اتقوا النار ولو بشق تمرۃ …: ۱۴۱۵] ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری: «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ» [بخاری، التفسیر، باب قولہ: { الذین یلمزون المطوعین… }: ۴۶۶۹]
➋ { سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

79۔ 1 مطّوعین کے معنی ہیں صدقات واجبہ کے علاوہ اپنی خوشی سے مزید اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے،" جہد " کے معنی محنت ومشقت کے ہیں یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی محنت و مشقت سے کمائے ہوئے تھوڑے مال میں سے بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آیت میں منافقین کی ایک اور نہایت قبیح حرکت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ وغیرہ کے موقع پر مسلمانوں سے چندے کی اپیل فرماتے تو مسلمان آپ کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے حسب استطاعت اس میں حصہ لیتے کسی کے پاس زیادہ مال ہوتا وہ زیادہ صدقہ دیتا جس کے پاس تھوڑا ہوتا، وہ تھوڑا دیتا، یہ منافقین دونوں قسم کے مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے زیادہ دینے والوں کے بارے میں کہتے اس کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش ہے اور تھوڑا دینے والوں کو کہتے کہ تیرے اس مال سے کیا بنے گا یا اللہ تعالیٰ تیرے اس صدقے سے بےنیاز ہے (صحیح بخاری) یوں وہ منافقین مسلمانوں کا استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے۔ 79۔ 2 یعنی مومنین سے استہزا کا بدلہ انہیں اس طرح دیتا ہے کہ انہیں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ اس کا تعلق باب مشاکلت سے ہے جو علم بلاغت کا ایک اصول ہے یا یہ بددعا ہے اللہ تعالیٰ ان سے بھی استہزا کا معاملہ کرے جس طرح یہ مسلمانوں کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ (ان منافقوں میں کچھ ایسے ہیں) جو خوشی سے صدقہ کرنے والے [94] مومنوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور ایسے (تنگدست) مسلمانوں پر بھی جو اپنی مشقت (کی کمائی) کے سوائے کچھ نہیں رکھتے۔ یہ منافق ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان کا مذاق انہی پر ڈال دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا
[94] غزوہ تبوک کے لئے چندہ دینے والے:۔
غزوہ تبوک کے موقعہ پر قحط سالی بھی تھی۔ ابھی فصلیں بھی نہیں پکی تھیں۔ سفر بھی دور دراز کا تھا۔ مقابلہ بھی رومیوں سے تھا اور اسلحہ اور سواری کی بھی خاصی قلت تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فنڈ کے لیے پر زور اپیل کی جس کے نتیجہ میں سیدنا عثمانؓ اور سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اتنا چندہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔ سیدنا عمرؓ اپنے گھر کا آدھا اثاثہ بانٹ کر جہاد فنڈ کے لیے لے آئے اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ سارا ہی اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے اور ہر مسلمان نے اس فنڈ میں حسب توفیق حصہ لیا۔ نادار لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اور اغنیاء نے اپنی حیثیت اور رغبت کے مطابق۔ ایک صحابی ابو عقیل نے رات بھر مزدوری کی جس کی اجرت ایک صاع کھجور تھی۔ ان میں سے آدھا صاع گھر لے گیا اور آدھا صاع لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة توبه زير آيت هذا]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدھے صاع سے اتنی خوشی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ڈھیر کے اوپر پھیلا دیں۔ یہ در اصل آدھا صاع کھجور کی قدر و قیمت نہ تھی بلکہ اس نیت، شوق اور رغبت کی تھی جس کی بنا پر اس نے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر آدھا صاع حاضر کر دیا تھا۔
چندہ دینے والوں کو منافقوں کی طعنہ زنی:۔
اس موقعہ پر منافقوں کو پھبتیاں کسنے کا خوب موقع ملا۔ اگر کسی نے جی کھول کر چندہ دیا ہوتا تو کہتے کہ یہ سب کچھ دکھلاوا اور ریاکاری ہے۔ اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو کہتے کہ اتنے مال سے کونسی جنگی ضرورت پوری ہو سکتی ہے یہ لوگ تو لہو لگا کے شہیدوں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کو اس کی کیا پروا تھی۔ غرض ان کی طعن و ملامت سے کوئی بھی نہ بچتا تھا۔ یہی پس منظر اس آیت کا شان نزول ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں۔ جب ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا ہم اس وقت مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ ابو عقیل (اسی مزدوری سے) آدھا صاع کھجور لے کر آئے تو منافق کہنے لگے: ابو عقیل کی خیرات کی بھلا اللہ کو کیا پروا تھی۔ ایک اور آدمی (عبد الرحمن بن عوفؓ) بہت سا مال لائے تو منافق کہنے لگے کہ اس نے ریا (ناموری) کے لیے اتنا مال خیرات کیا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ مسلم۔ كتاب الزكوٰة باب الحمل باجرة يتصدق بها]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز ٭٭
یہ بھی منافقوں کی ایک بدخصلت ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل، یہ عیب جو، بدگو لوگ بہت برے ہیں۔ اگر کوئی شخص بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو یہ اسے ریاکار کہنے لگتے ہیں اور اگر کوئی مسکین اپنی مالی کمزوری کی بنا پر تھوڑا بہت دے تو یہ ناک بھوں چڑھا کر کہتے ہیں لو ان کی اس حقیر چیز کا بھی اللہ بھوکا تھا۔
چنانچہ جب صدقات دینے کی آیت اتری ہے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اپنے صدقات لیے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ایک صاحب نے دل کھول کر بڑی رقم دی، اسے تو ان منافقوں نے ریاکار کا خطاب دیا اور ایک صاحب بیچارے مسکین آدمی تھی صرف ایک صاع اناج لائے تھے، انہیں کہا کہ اس کے اس صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی؟ اس کا بیان اس آیت میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4668]‏‏‏‏
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع میں فرمایا کہ جو صدقہ دے گا میں اس کی بابت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دوں گا۔‏‏‏‏ اس وقت ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے عمامہ میں سے کچھ دینا چاہا لیکن پھر لپیٹ لیا۔ اتنے میں ایک صاحب جو سیاہ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ایک اونٹنی لے کر آگے بڑھے جس سے زیادہ اچھی اونٹنی بقیع بھر میں نہ تھی۔ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات ہے۔‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا اس نے کہا: سنبھال لیجئے۔‏‏‏‏ اس پر کسی نے کہا اس سے تو اونٹنی ہی اچھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: تو جھوٹا ہے یہ تجھ سے اور اس سے تین گنا اچھا ہے افسوس! سینکڑوں اونٹ رکھنے والے تجھ جیسوں پر افسوس۔ تین مرتبہ یہی فرمایا، مگر وہ جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح کرے، اور لپیں بھر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا، یعنی راہ اللہ ہر نیک کام میں خرچ کرے۔
پھر فرمایا: انہوں نے فلاح پالی جو کم مال والے اور زیادہ عبادت والے ہوں۔‏‏‏‏ [مسند احمد:34/5:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ چالیس 40 اوقیہ چاندی لائے اور ایک غریب انصاری ایک صاع اناج لائے، منافقوں نے ایک کو ریاکار بتلایا دوسرے کے صدقے کو حقیر بتلایا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17018:ضعیف]‏‏‏‏
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوگوں نے مال خیرات دینا اور جمع کرنا شروع کیا۔ ایک صاحب ایک صاع کھجوریں لے آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھجوروں کے دو صاع تھے ایک میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روک لیا اور ایک لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی جمع شدہ مال میں ڈال دینے کو فرمایا اس پر منافق بکواس کرنے لگے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے بے نیاز ہے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میرے پاس ایک سو اوقیہ سونا ہے سب کو صدقہ کرتا ہوں۔‏‏‏‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہوش میں بھی ہو؟ آپ نے جواب دیا ہاں ہوش میں ہوں۔ فرمایا: پھر کیا کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: سنو! میرے پاس آٹھ ہزار ہیں جن میں سے چار ہزار تو میں اللہ تعالیٰ کو قرض دے رہا ہوں اور چار ہزار اپنے لیے رکھ لیتا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے جو تو نے رکھ لیا ہے اور جو تو نے خرچ کر دیا ہے۔
منافق ان پر باتیں بنانے لگے کہ پھول گئے اپنی سخاوت دکھانے کے لیے اتنی بڑی رقم دے دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بڑی رقم اور چھوٹی رقم والوں کی سچائی اور ان منافقوں کا موذی پن ظاہر کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17019:ضعیف]‏‏‏‏
بنو عجلان کے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما نے بھی اس وقت بڑی رقم خیرات کی تھی ایک سو وسق کجھوریں دی تھیں۔ منافقوں نے اسے ریاکاری پر محمول کیا تھا۔ اپنی محنت مزدوری کی تھوڑی سی خیرات دینے والے ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ قبیلہ بنو انیف کے شخص تھے ان کے ایک صاع خیرات پر منافقوں نے ہنسی اور ہجو کی تھی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ چندہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت کو جہاد پر روانہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے دو ہزار دیئے تھے اور دو ہزار رکھے تھے دوسرے بزرگ نے رات بھر کی محنت میں دو صائع کھجوریں حاصل کر کے ایک صائع رکھ لیں اور ایک صائع دے دیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17029:ضعیف]‏‏‏‏
یہ سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے رات بھر اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے رہے تھے۔ ان کا نام حجاب تھا۔ اور قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ثعلبہ تھا۔ پس منافقوں کے اس تمسخر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی بدلہ لیا، ان منافقوں کے لیے اخروی المناک عذاب ہیں۔ اور ان کے اعمال کا ان عملوں جیسا ہی برا بدلہ ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے ...اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کر سکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے... تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿ اَلَّذِیْنَ یَلْ٘مِزُوْنَ جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں ﴿الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے) صدقات میں۔ پس کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریاکاری اور فخر کا اظہار ہے۔
﴿ وَ اور۔وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے۔﴿ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١ٞ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کر دیے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا۔
(۱) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انھیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کر سکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَ٘شِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (النور: 24؍19) جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(۲) وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔
(۳) طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔
(۴) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔
(۵) اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہو سکتی ہے؟
(۶) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ.... اگرچہ ان سے بے نیاز ہے لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں .... فرماتا ہے ﴿فَ٘مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ (الزلزال: 99؍7) پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گاچنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا أيضاً من مخازي المنافقين، فكانوا قبَّحهم الله لا يدعون شيئاً من أمور الإسلام والمسلمين يرون لهم مقالاً؛ إلا قالوا وطعنوا بغياً وعدواناً، فلما حثَّ الله ورسوله على الصدقة؛ بادر المسلمون إلى ذلك، وبذلوا من أموالهم كل على حسب حاله، منهم المكثر ومنهم المقل، فيلمزون المكثر منهم بأنَّ قصدَه بنفقته الرياء والسمعة، وقالوا للمقلِّ الفقير: إنَّ الله غنيٌّ عن صدقة هذا، فأنزل الله تعالى: {الذين يَلْمِزون}؛ أي: يعيبون ويطعنون {المُطَّوِّعين من المؤمنين في الصدقات}: فيقولون: مراؤون قصدُهم الفخر والرياء {و} يلمزون {الذين لا يَجِدون إلا جُهْدَهم}: فيخرِجون ما استطاعوا ويقولون: الله غنيٌّ عن صدقاتهم، {فيسخرون منهم}، فقابلهم الله على صنيعهم بأن سَخِرَ منهم، {ولهم عذابٌ أليم}؛ فإنَّهم جمعوا في كلامهم هذا بين عدة محاذير:

منها: تتبُّعهم لأحوال المؤمنين وحرصهم على أن يجدوا مقالاً يقولونه فيهم، والله يقول: {إنَّ الذين يحبُّون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذابٌ أليمٌ}.

ومنها: طعنهم بالمؤمنين لأجل إيمانهم كفراً بالله تعالى وبغضاً للدين.

ومنها: أن اللَّمز محرمٌ، بل هو من كبائر الذنوب في أمور الدنيا، وأما اللَّمز في أمر الطاعة؛ فأقبحُ وأقبح.

ومنها: أنَّ من أطاع الله وتطوَّع بخَصْلةٍ من خصال الخير؛ فإنَّ الذي ينبغي إعانته وتنشيطه على عمله، وهؤلاء قصدوا تثبيطهم بما قالوا فيهم، وعابوهم عليه.

ومنها: أنَّ حكمهم على من أنفق مالاً كثيراً بأنه مراءٍ غلطٌ فاحشٌ وحكم على الغيب ورجمٌ بالظن، وأيُّ شرٍّ أكبر من هذا؟!

ومنها: أن قولهم لصاحب الصدقة القليلة: اللهُ غنيٌّ عن صدقة هذا! كلامٌ مقصوده باطلٌ؛ فإنَّ الله غنيٌ عن صدقة المتصدِّق بالقليل والكثير، بل وغني عن أهل السماوات والأرض، ولكنه تعالى أمر العباد بما هم مفتقرون إليه؛ فالله وإن كان غنيًّا عنه؛ فهم فقراء إليه؛ {فمن يعملْ مثقال ذرَّةٍ خيراً يره}، وفي هذا القول من التثبيط عن الخير ما هو ظاهرٌ بيّن، ولهذا كان جزاؤهم أن يسخر الله منهم، {ولهم عذابٌ أليمٌ}.