ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 111

اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾
بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جائو جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے
En
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وه لوگ اللہ کی راه میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعده کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیاده اپنے عہد کو کون پورا کرنے واﻻ ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے [124] بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ تورات، انجیل، اور قرآن سب کتابوں میں اللہ کے ذمہ یہ پختہ وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو وفا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ لہذا (اے مسلمانو)! تم نے جو سودا کیا ہے اس پر خوشیاں مناؤ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[124] جان و مال فروخت کرنے کا مفہوم:۔
اس کا ایک مفہوم تو ترجمہ سے ہی واضح ہو جاتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں پھر خواہ وہ شہید ہو جائیں یا بچ کر آجائیں بہرصورت ان کو جنت ضرور ملے گی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حقیقت میں تو ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مومنوں کی جانوں اور اموال کا بھی ہے لیکن اس نے یہ چیزیں بطور امانت دے رکھی ہیں اور ان میں تصرف کا اختیار بھی انسان کو دے رکھا ہے۔ اسی اختیار سے دستبردار ہو جانے اور اس اختیار کو اللہ کی رضا کے تابع بنا دینے کی قیمت یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت عطا کرے گا اور چونکہ یہ قیمت یعنی جنت نقد بہ نقد نہیں ملتی بلکہ ادھار ہے جو مرنے کے بعد ہی ملے گی۔ لہٰذا یہ توثیق بھی فرما دی۔ اللہ کا یہ وعدہ سب الہامی کتابوں میں بالخصوص تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے مزید برآں یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔ لہٰذا مومنوں کے لیے اس وعدہ میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان نے اپنی جانوں اور اموال میں تصرف کے جملہ اختیارات تو اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیئے ہیں اور بوقت ضرورت جان و مال کا نذرانہ پیش کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینا پھر شہید ہو جانا یا بچ کر آجانا یہ سب کچھ وقتی باتیں اور اسی اصل معاہدہ بیع کا ایک حصہ ہیں۔ اصل معاہدہ بیع یہی ہے کہ مومن اپنی جان میں اور اموال میں اللہ کی مرضی کے مطابق ہی تصرف کرے گا۔ یہ معاہدہ بیع انسان کی موت تک چلتا ہے۔ اس سے پہلے یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ انسان نے یہ معاہدہ بیع اپنی عمر بھر نبھایا بھی ہے یا نہیں۔ اور جب موت آجاتی ہے تو اس وقت اسے اس کی قیمت یعنی جنت فوراً مل جاتی ہے۔ اس صورت میں ادھار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس مفہوم کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو زندگی بھر جہاد کا موقع ہی میسر نہ آیا ہو۔ مگر اس نے اپنی جان، اپنے مال اور اپنے اختیار تصرف کو اللہ کی مرضی کے تحت رکھا ہو تو اس سے بھی جنت کا وعدہ ہے۔