اور کچھ دوسرے ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، انھوں نے کچھ عمل نیک اور کچھ دوسرے برے ملا دیے، قریب ہے کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے
En
102۔ (ان کے علاوہ) کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں [116] کا اعتراف کر لیا وہ ملے جلے عمل کرتے رہے کچھ اچھے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[116] غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے سات مسلمان جنہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا تھا:۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو (80) اسی سے زیادہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر طرح طرح کے بہانے بنانے لگے اور قسمیں کھا کھا کر اس بات کی یقین دہانی کرانے لگے کہ ہم فی الواقع معذور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ تعرض نہ فرمایا بس اتنا کہہ دیا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ ان کے علاوہ سات مسلمان ایسے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے پاس کوئی معقول عذر نہ تھا الا یہ کہ وہ سستی کی وجہ سے شامل جہاد نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باز پرس سے پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف یوں کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا اور اپنے آپ پر نیند اور خوردو نوش کو حرام کر لیا اور قسم کھائی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان مجرموں اور قیدیوں کو اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے اسی طرح بندھے رہیں گے۔ خواہ انہیں اسی حال میں موت ہی کیوں نہ آجائے۔ ان میں سر فہرست ابو لبابہ بن عبد المنذر تھے جو ہجرت نبوی سے پہلے بیعت عقبہ کے موقعہ پر اسلام لائے تھے پھر غزوہ بدر اور دوسرے معرکوں میں شریک رہے بس اسی غزوہ تبوک میں نفس کی کمزوری نے غلبہ کیا تو پیچھے رہ گئے۔ ان کے باقی چھ ساتھیوں کا بھی سابقہ طرز زندگی بے داغ تھا۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”واللہ جب تک اللہ حکم نہ دے میں انہیں کھول نہیں سکتا۔“ چنانچہ کئی روز تک یہ لوگ بے آب و دانہ اور بے خواب ستون سے بندھے رہے حتیٰ کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ تب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور توبہ کی بشارت سنائی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔