ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 102

وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۰۲﴾
اور کچھ دوسرے ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، انھوں نے کچھ عمل نیک اور کچھ دوسرے برے ملا دیے، قریب ہے کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) {وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ …: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ } والی آیت میں مسلمانوں کے بہترین لوگوں کا ذکر ہے اور «{ وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ میں مسلمان کہلانے والے بدترین لوگوں کا ذکر ہے، جو آگ کے درک اسفل (سب سے نچلے حصے) کا ایندھن بننے والے ہیں اور اب عام مسلمانوں کا ذکر ہے جن کے صالح اعمال بھی ہیں اور کچھ اعمال سیئہ (برے کام) بھی ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ مفسرین نے یہاں ابولبابہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کا تذکرہ فرمایا کہ وہ مخلص مسلمان ہونے کے باوجود تبوک پر نہ جا سکے تو انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خود کھولیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری توبہ قبول ہو گئی۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور پہلے ان کا پیش کردہ صدقہ قبول نہیں کیا تھا پھر اگلی آیت «{ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً اتری تو ان کا صدقہ بھی قبول فرمایا۔ اس مفہوم کی اکثر روایات مرسل یا کمزور ہیں، البتہ {الاستيعاب في بيان الأسباب} میں ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنھم کی ایک روایت کو حسن قرار دیا گیا ہے، جس میں ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے پر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھنے اور آخر کار اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولنے کا اور «{ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ سے «{ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ تک آیات اترنے کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم) البتہ اس بات میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ جس طرح «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ والی آیت میں مذکور افراد «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ میں قیامت تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے تمام محسن پیروکار شامل ہیں، اسی طرح یہ آیت قیامت تک آنے والے تمام گناہ گار مخلص مسلمانوں کو شامل ہے، جنھوں نے اپنے اچھے اعمال کے ساتھ کچھ دوسرے برے اعمال بھی ملا جلا رکھے ہیں۔ سند کے لحاظ سے اس کی صحیح ترین تفسیر وہ ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنی صحیح میں درج فرمائی ہے کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات دو آنے والے میرے پاس آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا، پھر وہ مجھے ایک ایسے شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کا نصف بدن سب سے زیادہ خوبصورت شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو اور نصف اس بدصورت ترین شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو۔ دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا، اس نہر کے اندر داخل ہو جاؤ، وہ اس میں داخل ہو گئے، پھر ہماری طرف واپس آئے تو ان سے وہ بدصورتی جا چکی تھی اور وہ بہترین صورت میں بدل چکے تھے۔ دونوں (فرشتوں) نے مجھ سے کہا، یہ جنت عدن ہے اور وہ تمھارا گھر ہے۔ دونوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کا نصف حصہ خوبصورت اور نصف بدصورت تھا [فَاِنَّهُمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللّٰهُ عَنْهُمْ] تو یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نیک عمل کیے اور ان کے ساتھ برے عمل بھی ملا جلا دیے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرما دیا۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏وآخرون اعترفوا بذنوبہم» : ۴۶۷۴]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یہ وہ مخلص مسلمان ہیں جو بغیر عذر کے محض سستی کی وجہ سے تبوک میں نبی کے ساتھ نہیں گئے بلکہ بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، اور اعتراف گناہ کرلیا۔ 12۔ 2 بھلے سے مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو جہاد میں پیچھے رہ جانے سے پہلے کرتے رہے ہیں جن میں مختلف جنگوں میں شرکت بھی کی اور ' کچھ برے ' سے مراد یہی تبوک کے موقع پر ان کا پیچھے رہنا۔ 12۔ 3 اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید، یقین کا فائدہ دیتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع فرما کر ان کے اعتراف گناہ کو توبہ کے قائم مقام قرار دے کر انہیں معاف فرما دیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ (ان کے علاوہ) کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں [116] کا اعتراف کر لیا وہ ملے جلے عمل کرتے رہے کچھ اچھے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[116] غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے سات مسلمان جنہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا تھا:۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو (80) اسی سے زیادہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر طرح طرح کے بہانے بنانے لگے اور قسمیں کھا کھا کر اس بات کی یقین دہانی کرانے لگے کہ ہم فی الواقع معذور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ تعرض نہ فرمایا بس اتنا کہہ دیا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ ان کے علاوہ سات مسلمان ایسے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے پاس کوئی معقول عذر نہ تھا الا یہ کہ وہ سستی کی وجہ سے شامل جہاد نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باز پرس سے پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف یوں کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا اور اپنے آپ پر نیند اور خوردو نوش کو حرام کر لیا اور قسم کھائی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان مجرموں اور قیدیوں کو اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے اسی طرح بندھے رہیں گے۔ خواہ انہیں اسی حال میں موت ہی کیوں نہ آجائے۔ ان میں سر فہرست ابو لبابہ بن عبد المنذر تھے جو ہجرت نبوی سے پہلے بیعت عقبہ کے موقعہ پر اسلام لائے تھے پھر غزوہ بدر اور دوسرے معرکوں میں شریک رہے بس اسی غزوہ تبوک میں نفس کی کمزوری نے غلبہ کیا تو پیچھے رہ گئے۔ ان کے باقی چھ ساتھیوں کا بھی سابقہ طرز زندگی بے داغ تھا۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”واللہ جب تک اللہ حکم نہ دے میں انہیں کھول نہیں سکتا۔“ چنانچہ کئی روز تک یہ لوگ بے آب و دانہ اور بے خواب ستون سے بندھے رہے حتیٰ کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ تب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور توبہ کی بشارت سنائی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تساہل اور سستی سے بچو ٭٭
جب اللہ تعالیٰ ان منافقوں کا حال بیان کر چکا جو مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے رکے گئے تھے۔ اور شریک جنگ سے بے رغبتی، تکذیب اور شک کا مظاہرہ کرتے تھے تو پھر ان گنہگاروں کا ذکر شروع کرتا ہے جو جہاد میں شریک ہونے سے باز رہے تھے صرف سستی اور آرام طلبی کے سبب حالانکہ انہیں تصدیق حق اور ایمان حاصل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کے سوا اور دوسرے لوگ جو جہاد سے دک رہے، انہوں نے اپنے قصور کا اعتراف و اقرار کر لیا۔ لیکن یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دوسرے اعمال صالحہ بھی ہیں، اور ان اعمال صالحہ کے ساتھ اپنی بعض تقصیرات جیسے جہاد سے باز رہنا بھی انہوں نے شامل کر دیا ہے لیکن ان کی اس تقصیر کو اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے۔ اور ان منافقین کی تقصیر کو وہ معاف نہیں کرے گا اور ان کے کوئی اعمال صالح ہیں بھی نہیں۔ یہ آیت اگرچہ چند معین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن سارے مخلص خطاکاروں اور گنہگاروں پر بھی عام ہے۔
اور مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ ابولبابہ ‏‏‏‏‏‏‏رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب انہوں نے بنی قریظہ سے کہا تھا کہ یہ ذبح کی جگہ ہے اور ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سیدنا ابن عباس ‏‏رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «اَخَرُوْنَ» سے مراد ابولبابہ اور ان کے اصحاب کی جماعت ہے جو غزوہ تبوک میں شرکت جہاد سے پہلو تہی کئے ہوئے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ ابو لبابہ کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے، یا سات تھے، یا نو تھے،
اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا اور قسم کھا لی تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہم کو نہ کھولیں، ہم نہ کھولیں جائیں۔ اور جب یہ آیت «وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھول دیا اور ان کا جنگ سے کوتاہی کا قصور معاف کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک ایسے شہر تک لے آئے جو چاندی اور سونے کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا وہاں ہمیں بعض ایسے آدمی دکھائی دئیے کہ ان کا آدھا حصہ تو نہایت ہی خوش منظر تھا اور دوسرا آدھا حصہ جسم نہایت ہی بد صورت کہ دیکھنے کو جی نہ چاہے۔ میرے ان ساتھیوں نے ان سے کہا کہ تم اس نہر میں غوطہ لگاؤ وہ غوطہ لگا کر جب باہر نکلے تو ان کا یہ عیب جاتا رہا اور ان کے اجسام سب کے سب حسین دکھائی دیتے تھے۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہی تمھاری منزل ہے اور کہا کہ وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت سا تھا اور آدھا جسم نہایت بد صورت سا تھا سو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اعمال نیک کے ساتھ اعمال بد بھی ملا رکھے تھا اور اللہ عز و جل کی حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔ [صحیح بخاری:4674:صحیح]‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مختصراً اسی طرح روایت کی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰخَرُوْنَ اور دوسرے لوگ ہیں مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ بلکہ تمام بلاد اسلامیہ کے لوگ ﴿اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًا ملایا انھوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لیے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بد اعمال کے ساتھ خلط ملط کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کر لے۔
اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
۱۔ اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔
۲۔ پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَلَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَ٘هُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا (فاطر:35؍41) اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو وہ خوف و رجاء کے مابین ہوتا ہے۔ وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وآخرون}: ممَّن بالمدينة ومَنْ حولها، بل ومن سائر البلاد الإسلاميَّة، {اعترفوا بذنوبهم}؛ أي: أقرُّوا بها وندموا عليها وسعوا في التوبة منها والتطهُّر من أدرانها، {خلطوا عملاً صالحاً وآخر سيِّئاً}: ولا يكون العمل صالحاً إلا إذا كان مع العبد أصلُ التوحيد والإيمان المخرِجُ عن الكفر والشرك الذي هو شرطٌ لكلِّ عمل صالح؛ فهؤلاء خلطوا الأعمال الصالحة بالأعمال السيئة من التجرِّي على بعض المحرَّمات والتقصير في بعض الواجبات مع الاعتراف بذلك والرجاء بأن يغفر الله لهم؛ فهؤلاء {عسى اللهُ أن يتوبَ عليهم}: وتوبتُه على عبده نوعان: الأولُ: التوفيقُ للتوبة. والثاني: قبولُها بعد وقوعها منهم. {إنَّ الله غفورٌ رحيم}؛ أي: وصفه المغفرة والرحمة اللتان لا يخلو مخلوقٌ منهما، بل لا بقاء للعالم العلويِّ والسفليِّ إلا بهما؛ فلوْ يؤاخِذُ اللهُ الناسَ بظُلْمهم ما ترك على ظهرها من دابَّةٍ، {إنَّ الله يمسك السمواتِ والأرضَ أن تزولا ولئن زالتا إنْ أمَسكَهما من أحدٍ من بعدِهِ إنَّه كان حليماً غفوراً}، ومن مغفرته أن المسرفين على أنفسهم الذين قطعوا أعمارهم بالأعمال السيئة إذا تابوا إليه وأنابوا، ولو قُبيل موتهم بأقلِّ القليل؛ فإنَّه يعفو عنهم ويتجاوزُ عن سيئاتهم. فهذه الآية دالةٌ على أن المخلِّط المعترف النادم الذي لم يتب توبةً نصوحاً؛ أنه تحت الخوف والرجاء، وهو إلى السلامة أقرب، وأما المخلِّط الذي لم يعترفْ، ولم يندم على ما مضى منه، بل لا يزال مصرًّا على الذُّنوب؛ فإنه يخاف عليه أشدُّ الخوف.