ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 100

وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

100۔ وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت [112] کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع [113] کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[112] اولین مہاجر و انصار صحابہ اور ان کے نام:۔
مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکرؓ ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہؓ۔ لڑکوں میں سیدنا علیؓ اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہؓ۔ ان میں ماسوائے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے باقی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں: سیدنا عثمانؓ، سیدنا زبیر بن عوامؓ، سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ، سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور سیدنا طلحہؓ۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرت سعدؓ، عوفؓ، رافعؓ، قطبہؓ اور جابرؓ۔ پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی۔ اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔ ﴿السابقون الاولون﴾ سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تا آنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو گیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بے پناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلند ہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر و ثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔ مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی۔ بعض کے نزدیک غزوہ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔ بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار، اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبار سے سابقین اولین ہیں۔ اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں۔ لہٰذا ایک ہی شخص (یا جماعت) ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہو سکتا ہے۔
السابقون الاولون کی تعیین:۔
ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوہ بدر تک کے مسلمان ہیں۔ اس لیے کہ فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔ یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جا سکتا ہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کر دیئے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔
[113] تابعین کی فضیلت:۔
سابقین اولین کی طرح متبعین کی تعیین میں بھی اختلاف ہے کیونکہ جو بھی حد ہم سابقین اولین کی مقرر کریں گے اس کے بعد سے متبعین کا آغاز ہو جائے گا۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد باقی صحابہ کرامؓ ہیں بعض کے نزدیک تابعین بھی ان میں شامل ہیں اور بعض کے نزدیک تبع تابعین بھی اور قیامت تک کے مسلمان ان میں شامل ہیں۔ بشرطیکہ وہ سابقین اولین کے طریق پر قائم ہوں۔ یعنی کتاب و سنت کے پابند ہوں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوں اور نہایت نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہوں۔