[4]﴿يَسَرْ﴾﴿سرٰي﴾﴿يسري﴾ کا لفظ رات کو چلنے کے لیے مخصوص ہے، رات کو سفر کرنا اور ساریہ رات کو سفر کرنے والی چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں۔ اور اسری کے معنی کسی دوسرے کو رات کے وقت سیر کرانا، لے چلنا، سفر کرانا [17: 1] اس لحاظ سے اس کا ایک معنی تو یہ ہو گا کہ اس رات کی قسم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر کیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رات کی قسم جب وہ خود جانے لگے یا رخصت ہونے لگے۔ اس لحاظ سے ان آیات میں ایک ہی وقت دو طرح کے انداز بیان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی رات کے رخصت ہونے کا وہی وقت ہوتا ہے جب پو پھوٹتی یا سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔