ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الغاشية (88) — آیت 17

اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾
تو کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیے گئے۔ En
یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں
En
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں [8] دیکھتے کہ وہ کس طرح کا پیدا کیا گیا؟
[8] اللہ تعالیٰ نے عرب کے بدو اور خانہ بدوشوں کو سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی جو ان کے نزدیک ایک قیمتی متاع اور صحرائی سفر میں ان کا مستقل رفیق تھا جو دس دس دن پانی پینے کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتا بلکہ بے تکلف سفر بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ خار دار جھاڑیاں اور خشک گھاس اور پتے کھا کر شکم پروری کر لیتا ہے۔ ریت میں اس کے پاؤں نہیں دھنستے اور بے تکلف سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ ریت کی وجہ سے تھک نہیں جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ سب بار بردار جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ گویا یہ جانور ان لوگوں کی روح رواں تھا۔ عظیم الجثہ اور عجیب الخلقت۔ مثل مشہور ہے۔ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ اور اہل عرب کی بالخصوص توجہ اس جانور کی طرف اس لیے دلائی گئی کہ انہیں صحرائی زندگی کے لیے اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا جانور کام ہی نہ دے سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حسب حال انہیں ایسا کارآمد جانور مہیا فرما دیا۔ اور اسی کی پیدائش میں غور کرنے کی طرف توجہ دلائی۔