تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ عرب کا بادیہ نشین تمام شہری تکلفات سے دور اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو اور فطرت اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو تھوڑا سا غور کرنے پر بھی ہر چیز میں اسے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت نظر آئے گی۔ اوپر دیکھے تو سورج یا چاند ستاروں سے بھرا ہوا لا محدود محکم آسمان، نیچے دیکھے تو صفائی سے بچھی ہوئی وسیع زمین، دائیں بائیں دیکھے تو زمین میں گڑے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور اپنی سواری کو دیکھے تو صحرا کے مطابق بناوٹ رکھنے والا ہفتوں بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا اونٹ، کوئی چیز بھی تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں۔ اتنی عظیم مخلوق کے مالک کے لیے اس حقیر انسان کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے جسے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور جگہ ارشاد ہے «أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6] یعنی ’ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا، کیسے مزین کیا اور ایک سوراخ نہیں چھوڑا ‘۔
پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھلائی اور نفع کی چیزیں پیدا کی ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیلا کر بچھا دی گئی ہے۔
غرض یہاں ان چیزوں کا بیان ہے جو قرآن کے مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ خالق، صانع، رب عظمت و عزت والا مالک اور متصرف معبود برحق اور اللہ حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام جپیں اور جس کے سامنے سر خم ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، وہ کہنے لگا: بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“، کہا: زمین کس نے پیدا کی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے“ کہا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“
کہا: پس آپ کو قسم ہے، اس اللہ کی جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور ان پہاڑوں کو گاڑ دیا، اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ کہا اس اللہ کی آپ کو قسم ہے جس نے آپ کو بھیجا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
کہنے لگے، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر زکوٰۃ فرض ہے، فرمایا: ”سچ ہے“، پھر کہا: آپ کو اپنے بھیجنے والے اللہ کی قسم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟، فرمایا: ”ہاں“، مزید کہا کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو حج کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے سچ کہا۔“ وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس اللہ واحد کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:12]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ”زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا: اللہ نے، پوچھا: مجھے؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: آسمان کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: زمین کو؟ کہا: اللہ نے، پوچھا: پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بچے کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے، اس کا دل عظمت اللہ سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ پر سے گر پڑا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا“ }۔
ابن دینار فرماتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن جعفر مدینی ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتلاتے ہیں۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لئے مگر حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } ۱؎۔ [صحیح مسلم:21]
پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان لائے نہ اقرار کرے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ» * «وَلَـٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:31-32] یعنی ’ نہ تو سچائی کی تصدیق کی، نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ‘۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو آسانی والی حدیث سنی ہو اسے مجھے سناؤ، تو آپ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11673:صحیح]
ان سب کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے اور انہیں بدلہ دیں گے، نیکی کا نیک بدی کا بد۔
سورۃ الغاشیہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى حثًّا للذين لا يصدِّقون الرسول - صلى الله عليه وسلم - ولغيرهم من الناس أنْ يتفكَّروا في مخلوقات الله الدالَّة على توحيده. {أفلا ينظُرون إلى الإبل كيف خُلِقَتْ}؛ أي: ألا ينظُرون إلى خَلْقها البديع وكيف سخَّرها الله للعباد وذلَّلها لمنافعهم الكثيرة التي يضطَرُّون إليها؟ {وإلى الجبال كيف نُصِبَتْ}: بهيئةٍ باهرةٍ حصل بها الاستقرار للأرض وثباتُها من الاضطراب وأودع [الله] فيها من المنافع الجليلة ما أودع، {وإلى الأرض كيف سُطِحَتْ}؛ أي: مُدَّت مدًّا واسعاً، وسُهِّلت غاية التسهيل؛ ليستقرَّ العبادُ على ظهرها ويتمكَّنوا من حرثها وغراسها والبنيان فيها وسلوك طرقها.
واعلم أنَّ تسطيحها لا ينافي أنَّها كرةٌ مستديرةٌ قد أحاطتِ الأفلاك فيها من جميع جوانبها كما دلَّ على ذلك النقل والعقل والحسُّ والمشاهدة؛ كما هو مذكورٌ معروفٌ عند كثيرٍ من الناس ، خصوصاً في هذه الأزمنة، التي وقف الناس على أكثر أرجائها بما أعطاهم الله من الأسباب المقرِّبة للبعيد؛ فإنَّ التسطيح إنَّما ينافي كرويَّة الجسم الصغير جدًّا، الذي لو سطح؛ لم يبق له استدارةٌ تُذْكَر، وأمَّا جسم الأرض الذي هو كبيرٌ جدًّا واسعٌ ، فيكون كرويًّا مسطحاً، ولا يتنافى الأمران كما يعرف ذلك أرباب الخبرة.