آسان حساب یہ ہے کہ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری نکلا اس سے اس کی برائیوں کے متعلق یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ تم نے فلاں برا کام کیوں کیا تھا؟ کیا تمہارے پاس اس کے لیے کوئی عذر ہے؟ بلکہ اس کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہوا“ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے جلد ہی آسان سا حساب لیا جائے گا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ محض پیشی ہو گی۔ انہیں ان کے اعمال بتا دیئے جائیں گے اور جس کے حساب کی تحقیق شروع ہو گئی وہ تباہ ہوا۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير نيز كتاب العلم۔ باب من سمع شيئا فلم يفهمه۔۔]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔