ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾
اے انسان! بے شک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے ۔ En
اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا
En
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اے انسان تو تکلیف سہہ سہہ [4] کر کشاں کشاں اپنے پروردگار کی طرف جا رہا ہے پھر تو اس سے ملنے والا ہے
[4] ﴿كَدْحا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كَدْحاً ﴿كَدَحَ بمعنی کام میں بہت محنت کرنا۔ تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرنا۔ بمشقت کوئی کام کرتے جانا اور اس کی صورت یہ ہوتی کہ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ درپے ہو جاتا ہے اور وہ کام ابھی پورا بھی نہیں ہو چکتا کہ کوئی اور خواہش یا خواہشیں انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ پہلی خواہش کی تکمیل کے بعد، بعد والی خواہش کی تکمیل کے لیے کمر ہمت باندھ لیتا ہے اور اسی طرح اس کی تمام زندگی بیت جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواہش کرنے والا انسان ایک دنیا دار ہے اور اس کی تمام تر خواہشات کا محور دنیوی مفادات کا حصول ہے۔ یا وہ ایک دیندار اور اللہ کا فرمانبردار انسان ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اپنے اخروی مفادات کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ محنت مشقت کرنے اور تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرتے رہنے کے لحاظ سے دونوں کا طریقہ کار یکساں ہوتا ہے تاآنکہ اسے موت آلیتی ہے اور وہ خود بخود اللہ کے حضور پہنچ جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی تگ و دو کے متعلق یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود ہے تو اس کی اس غلط سوچ سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑ جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کے پاس پہنچ کر ہی دم لے گا۔