ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المطففين (83) — آیت 1

وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
بڑی ہلاکت ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ۔ En
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
En
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ ڈنڈی مارنے [1] والوں کے لیے ہلاکت ہے
[1] ﴿تطفيف﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مُطَفِّفِيْنَ ﴿طفيف﴾ بمعنی معمولی اور حقیر چیز اور ﴿طفّف بمعنی ناپ کا پیمانہ بھرتے وقت تھوڑا سا کم بھرنا یا پیمانہ ہی تھوڑا سا چھوٹا رکھنا تاکہ غلہ لینے والے کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اسے اس کا حق تھوڑا سا کم دیا جا رہا ہے۔ عرب میں زیادہ تر اشیاء کو ناپ کر دینے کا رواج تھا۔ تول کر دینے کا کم تھا۔ تاہم تھا ضرور۔ ہمارے ہاں زیادہ تر تول کر دینے کا رواج ہے۔ تول کر کم دینے کے لیے ہمارے ہاں ڈنڈی مارنے کا محاورہ عام ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ ڈنڈی مارنے سے کیا گیا ہے پھر ڈنڈی مارنا اس لحاظ سے زیادہ ابلغ ہے کہ دیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز کم دی جا سکتی ہے اور لیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز تھوڑی سی زیادہ لی جا سکتی ہے۔ نیت کا بگاڑ ہونے کے لحاظ سے کسی کو حق سے کم دینا اور خود لیتے وقت حق سے زیادہ لینا دونوں ہی ایک جیسے جرم یعنی کبیرہ گناہ ہیں۔