تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تنبیہ: ترمذی کی روایت کہ”ویل جہنم کی ایک وادی ہے … “ صحیح نہیں۔ [دیکھیے ضعیف ترمذي، سورۃ الأنبیاء: ۳۳۸۹]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ”مکے مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا ”وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ» ۱؎ [83-المطففين:1] ہے۔“
پس «تَّطْفِيفِ» سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ ’ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ‘ ٹھیک یہ ہے کہ «کَالُوْا» اور «وَزَنُوْا» کو متعدی مانیں اور «ھُمْ» کو محلاً منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو «كَالُوْا» اور «وَّزَنُوْا» کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔
قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے «وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:35] یعنی ’ جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کر دیا کرو۔ ‘
اور جگہ حکم ہے «اَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:152] ’ ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کر دیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ‘
اور جگہ فرمایا «وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ» ۱؎ [55-الرحمن:9] یعنی ’ تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ ‘
شعیب علیہ السلام کی قوم کو اسی بد عادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کر دیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ’ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہو گا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہو گا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہو گی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہو گا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6531]
اور حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہو جائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہو گا اور سخت تیز ہو گا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہو گا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہو گا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2864]
اور حدیث میں ہے { دھوپ اس قدر تیز ہو گی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:254/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:157/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار سال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
سنن ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:766،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگامیں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے۔ [ابن جریر]
ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» ، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہتے، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اﷲِ» کہتے، دس مرتبہ «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» ، پھر کہتے دعا «اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» اے اللہ مجھے بخش، مجھے ہدایت دے، مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1356،قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويلٌ}: كلمة عذابٍ وعقابٍ ، {للمطفِّفين}: وفسر الله المطفِّفين بأنهم {الذين إذا اكتالوا على الناس}؛ أي: أخذوا منهم وفاءً لهم عمَّا قِبَلَهم ، يستوفونه كاملاً من غير نقصٍ، {وإذا كالوهم أو وَزَنوهم}؛ أي: إذا أعطوا الناس حقَّهم الذي لهم عليهم بكيل أو وزن، {يُخْسِرونَ}؛ أي: ينقصِونَهم ذلك إمَّا بمكيال وميزان ناقصين، أو بعدم ملء المِكْيال والميزان، أو بغير ذلك؛ فهذا سرقةٌ لأموال الناس وعدمُ إنصاف لهم منهم. وإذا كان هذا وعيداً على الذين يَبْخَسونَ الناس بالمكيال والميزان؛ فالذي يأخذ أموالهم قهراً وسرقةً أولى بهذا الوعيد من المطفِّفين.
ودلَّت الآية الكريمة على أنَّ الإنسان كما يأخذ من الناس الذي له يجب [عليه] أن يعطِيَهم كلَّ ما لهم من الأموال والمعاملات، بل يدخُلُ في عموم هذا الحجج والمقالات؛ فإنَّه كما أنَّ المتناظرين قد جرت العادة أنَّ كل واحدٍ منهما يحرص على ماله من الحجج؛ فيجب عليه أيضاً أن يبيِّن ما لخصمه من الحجَّة التي لا يعلمها، وأن ينظر في أدلَّة خصمه كما ينظر في أدلَّته هو، وفي هذا الموضع يُعْرَفُ إنصاف الإنسان من تعصُّبه واعتسافه وتواضُعُه من كِبْره وعقلُهُ من سَفَهِهِ، نسأل الله التوفيق لكلِّ خير.
ثم توعَّد تعالى المطفِّفين، وتعجَّب من حالهم وإقامتهم على ما هم عليه، فقال: {ألا يظنُّ أولئك أنَّهم مبعوثونَ ليومٍ عظيمٍ. يومَ يقومُ الناسُ لربِّ العالمينَ}: فالذي جرَّأهم على التَّطفيف عدمُ إيمانهم باليوم الآخر؛ وإلاَّ؛ فلو آمنوا به وعرفوا أنهم سيقومون بين يدي الله فيحاسبهم على القليل والكثير؛ لأقلعوا عن ذلك وتابوا منه.