ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 9

کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾
ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔ En
مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو
En
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ ہرگز نہیں بلکہ تم تو روز جزا [9] کو جھٹلاتے ہو
[9] یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تمہاری خواہش یہ ہے کہ تم جیسے بھی دنیا میں زندگی بسر کرتے رہو تم سے مرنے کے بعد کوئی محاسبہ نہ ہو اور یہ کس قدر ظلم اور بے انصافی کی بات ہے کہ تمہیں قوتیں اور تصرف و اختیار تو تمام مخلوق پر دیا جائے لیکن تم پر ذمہ داری کچھ بھی نہ ہو؟ یہ دھوکا تمہیں کیسے لگ جاتا ہے؟