[1] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کو آنکھوں سے دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ سورۃ التکویر، الانفطار اور الانشقاق پڑھ لے۔ [ترمذي، ابواب التفسير] [2]﴿كوّر﴾ بمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔ مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں، اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بے نور جسم رہ جائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔