ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 1

اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ En
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا
En
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یَّنْظُرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہٗ رَأْيُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ: «‏‏‏‏اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» ‏‏‏‏ [التکویر: ۱] وَ «‏‏‏‏اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ» [الانفطار: ۱] وَ «‏‏‏‏اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ» ‏‏‏‏ [الانشقاق: ۱]] [مسند أحمد: 27/2، ح: ۴۸۰۶۔ ترمذي: ۳۳۳۳، سندہ صحیح] جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن کی طرف ایسے دیکھے جیسے آنکھ سے دیکھتا ہے تو وہ سورۂ تکویر، سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق پڑھ لے۔
اس سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کو واقع ہونے والی بارہ چیزیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی چھ چیزیں پہلے نفخہ کے وقت ہوں گی اور آخری چھ چیزیں دوسرے نفخہ کے وقت۔ ان کے بعد تیرھویں آیت میں وہ بات بیان فرمائی جو ان سب چیزوں کے ذکر سے مقصود ہے، یعنی اس وقت ہرجان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔
(آیت 1) {اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: كَوْرُ الْعِمَامَةِ وَ تَكْوِيْرُهَا} پگڑی لپیٹنا۔ {تَكْوِيْرُ الْمَتَاعِ} سامان جمع کرکے باندھ دینا۔ (خلاصہ قاموس) { كُوِّرَتْ } یعنی اتنی وسعت والے سورج، اس کی شعاعوں اور روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا اور وہ بالکل بے نور ہو جائے گا۔ چاند کا بھی یہی حال ہوگا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر: ۳۲۰۰] سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ دیے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

جب سورج لپیٹ میں آجائے گا (1)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ جب سورج لپیٹ [1] [2] لیا جائے گا
[1] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کو آنکھوں سے دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ سورۃ التکویر، الانفطار اور الانشقاق پڑھ لے۔ [ترمذي، ابواب التفسير]
[2] ﴿كوّر بمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔ مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں، اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بے نور جسم رہ جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭
یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏‏‏‏
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف]‏‏‏‏
اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ { سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3200]‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2]‏‏‏‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔
جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے۱؎ [ابن ابی حاتم:]‏‏‏‏
پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔
«عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔
امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:38]‏‏‏‏ یعنی ’ زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے ‘۔
سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔
ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏‏‏‏
خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» ۱؎ [38-ص:19]‏‏‏‏ یعنی ’ پرند جمع کیے ہوئے ‘، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ’ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ‘۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6]‏‏‏‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:6]‏‏‏‏۔‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏‏‏‏ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» ۱؎ [52-الطور:6]‏‏‏‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔
سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏‏‏‏ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔
ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ { سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22]‏‏‏‏ یعنی ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو ‘۔
حدیث میں ہے { ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:10-7]‏‏‏‏ یعنی ’ تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏‏‏‏
دوسری روایت میں ہے کہ وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏‏‏‏
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ» ، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7]‏‏‏‏ کے یعنی ’ روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی ‘۔
اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ’ مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ ‘۔ [تذکرہ قرطبی]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» ۱؎ [81-التكوير:8]‏‏‏‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟
اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏‏‏‏ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8]‏‏‏‏ میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1442:صحیح]‏‏‏‏
سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:478/3:صحیح]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے { زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں } ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8]‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
{ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند بزار:2280:حسن]‏‏‏‏
دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ ۱؎ [ابن مندہ:3/353:حسن]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا }۔ ۱؎ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہے کہ ’ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» ۱؎ [3-آل عمران:30]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی ‘۔
اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13]‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔
﴿وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الْوُحُوْشُ٘ حُشِرَتْ اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔
﴿وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿وَسِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا (الزمر:39؍72) اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ اور ﴿وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْؔجَنَّةِ زُمَرًا(الزمر:39؍73) اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔
﴿ اُحْشُ٘رُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ (الصافات:37؍22) ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔
﴿ وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا: ﴿ بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُ٘شِرَتْ ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔
﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَیَوْمَ تَ٘شَ٘قَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ (الفرقان:25؍25) جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔ فرمایا:﴿ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَ٘طَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (الأنبیاء: 21؍104) جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔ اور فرمایا: ﴿ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ (الزمر:39؍67) قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔
﴿ وَاِذَا الْؔجَحِیْمُ سُعِّرَتْ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الْؔجَنَّةُ اُزْلِفَتْ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتْ نَ٘فْ٘سٌ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحْضَرَتْ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا (الکہف:18؍49) اور انھوں نے جو عمل کیے، ان کو وہ موجود پائیں گے۔
یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا حصلتْ هذه الأمور الهائلةُ؛ تميَّز الخلقُ، وعلم كلٌّ ما قدَّمه لآخرته وما أحضره فيها من خيرٍ وشرٍّ، وذلك أنَّه إذا كان يومُ القيامةِ؛ تُكَوَّرُ الشمس؛ أي: تُجمع وتلفُّ ويُخسف القمر ويلقيان في النار، {وإذا النُّجوم انكدرتْ}؛ أي: تغيَّرت وتناثرت من أفلاكها، {وإذا الجبال سُيِّرَتْ}؛ أي: صارت كثيباً مهيلاً، ثم صارت كالعهن المنفوش، ثم تغيَّرت وصارت هباءً منبثًّا وأزيلت - عن أماكنها، {وإذا العِشارُ عُطِّلَتْ}؛ أي: عَطَّل الناس يومئذٍ نفائسَ أموالهم التي كانوا يهتمُّون لها، ويراعونها في جميع الأوقات، فجاءهم ما يُذْهِلُهم عنها، فنبَّه بالعشار - وهي النوق التي تتبعها أولادُها، وهي أنفس أموال العرب إذ ذاك عندهم - على ما هو في معناها من كل نفيس.

{وإذا الوحوشُ حُشِرَتْ}؛ أي: جُمِعَتْ ليوم القيامةِ؛ ليقتصَّ الله من بعضها لبعض، ويري العبادَ كمالَ عدلِهِ، حتى إنَّه يقتصُّ للشاة الجمَّاء من الشاةِ القرناء ثم يقال لها: كوني تراباً ، {وإذا البحارُ سُجِّرَتْ}؛ أي: أوقدت فصارت على عظمها ناراً تتوقَّد، {وإذا النُّفوس زُوِّجَتْ}؛ أي: قُرِنَ كلُّ صاحب عمل مع نظيره، فجُمِعَ الأبرار مع الأبرار والفجَّار مع الفجَّار، وزوِّج المؤمنون بالحور العين والكافرون بالشياطين، وهذا كقوله تعالى: {وسيقَ الذين كَفَروا إلى جهنَّم زُمَراً}، {وسيق الذين اتَّقَوْا ربَّهم إلى الجنَّةِ زُمَراً}، {احْشُروا الذين ظَلَموا وأزواجَهم}.

{وإذا الموؤُدةُ سُئِلَتْ}: وهي التي كانت الجاهليَّة الجهلاء تفعله من دفن البنات وهنَّ أحياء من غير سببٍ إلاَّ خشيةَ الفقر، فتسأل: {بأيِّ ذنبٍ قُتِلَتْ}، ومن المعلوم أنَّها ليس لها ذنبٌ، ولكن هذا فيه توبيخٌ وتقريعٌ لقاتليها، {وإذا الصُّحُفُ}: المشتملة على ما عمله العاملون من خيرٍ وشرٍّ، {نُشِرَتْ}: وفرِّقت على أهلها؛ فآخذٌ كتابه بيمينه وآخذٌ كتابه بشماله أو من وراء ظهره.

{وإذا السماءُ كُشِطَتْ}؛ أي: أزيلت؛ كما قال تعالى: {يومَ تَشَقَّقُ السماءُ بالغمام}، {يومَ نَطْوي السماءَ كطَيِّ السِّجِلِّ للكُتُبِ}، {والأرضُ جميعاً قبضَتُه يوم القيامةِ والسموات مطوياتٌ بيمينه}، {وإذا الجحيمُ سُعِّرَتْ}؛ أي: أوقد عليها فاستعرتْ والتهبت التهاباً لم يكنْ لها قبل ذلك، {وإذا الجنَّةُ أزْلِفَتْ}؛ أي: قرِّبت للمتقين، {علمت نفسٌ}؛ أي: كلُّ نفس لإتيانها في سياق الشرط، {ما أحضرتْ}؛ أي: ما حضر لديها من الأعمال التي قدَّمتها؛ كما قال تعالى: {ووجدوا ما عملوا حاضراً}.

وهذه الأوصافُ التي وصَفَ [اللَّهُ] بها يوم القيامة من الأوصاف التي تنزعج لها القلوب، وتشتدُّ من أجلها الكروب، وترتعد الفرائصُ، وتعمُّ المخاوف، وتحثُّ أولي الألباب للاستعداد لذلك اليوم، وتزجُرُهم عن كلِّ ما يوجب اللوم، ولهذا قال بعض السلف: من أراد أن يَنْظُرَ ليوم القيامة كأنه رأي عينٍ؛ فليتدبَّر سورة {إذا الشمسُ كُوِّرَتْ}.