[1] ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند قریشی سردار بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ روایات میں ان کے نام عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف ملتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بد ترین دشمن ثابت ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ جب قریشی سردار اسلام دشمنی کی حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اسی دوران سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس تشریف لائے۔ یہ عبد اللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ سیدہ خدیجہؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے آتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آیت کا مطلب پوچھا۔ اور جو لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے انہیں آپ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار محسوس ہوا۔ اور اس ناگواری کے اثرات آپ کے چہرہ پر بھی نمودار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد اللہؓ کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں خاموش کرا دیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہؓ کی طرف سے مطمئن تھے کہ وہ خالص مومن ہیں انہیں بعد میں سمجھا لیں گے سردست اگر ان سرداروں میں سے کوئی ایک بھی اسلام کے قریب آ گیا تو اس سے اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی ہے اسی وجہ سے آپ قریشی سرداروں سے ہی محو گفتگو رہے۔ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی جسے امام ترمذی نے مختصراً یوں ذکر کیا ہے:
عبد اللہ بن ام مکتوم اور راہ ہدایت کی جستجو طلب صادق :۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کی ابتدائی آیات عبد اللہ بن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ کہتے رہے کہ یا رسول اللہ مجھے دین کی راہ بتائیے۔ اس وقت آپ کے پاس مشرکوں میں سے کوئی بڑا آدمی بیٹھا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے (یعنی عبد اللہ) سے اعراض کرتے تھے اور دوسرے (مشرک) کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اور عبد اللہؓ کہتے تھے کیا میری بات میں کوئی برائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے۔ نہیں۔ اس بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ [ترمذي، ابواب التفسير] اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہو گیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کر دیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے: ﴿مرحبا بمن عاتبني فيه ربي﴾ (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔