تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1) ➊ { عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں {”وَ مَا يُدْرِيْكَ “} سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا صحابی سے بے توجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بے توجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے: ”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کرکے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔
➋ بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى» یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بے توجہی کرتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہو گیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کر دیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے: ﴿مرحبا بمن عاتبني فيه ربي﴾ (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]
وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{عبس}؛ أي: في وجهه، {وتولَّى}: في بدنه لأجل مجيء الأعمى له. ثم ذكر الفائدة في الإقبال عليه، فقال: {وما يدريكَ لعلَّه}؛ أي: الأعمى، {يَزَّكَّى}؛ أي: يتطهر عن الأخلاق الرذيلة ويتصف بالأخلاق الجميلة، {أو يَذَّكَّرُ فَتَنفعهُ الذِّكرَى}؛ أي: يتذكَّر ما ينفعه فينتفع بتلك الذِّكرى، وهذه فائدةٌ كبيرةٌ، هي المقصودة من بعثة الرسل ووعظ الوعَّاظ وتذكير المذكِّرين؛ فإقبالُك على مَنْ جاء بنفسه مفتقراً لذلك مقبلاً هو الأليقُ الواجب، وأما تصدِّيك وتعرُّضِك للغنيِّ المستغني الذي لا يسأل ولا يستفتي لعدم رغبته في الخير مع تركك مَنْ - أهمُّ منه؛ فإنَّه لا ينبغي لك؛ فإنَّه ليس عليك أن لا يَزَّكَّى؛ فلو لم يَتَزَكَّ؛ فلست بمحاسبٍ على ما عمله من الشرِّ، فدلَّ هذا على القاعدة المشهورة؛ أنَّه لا يُترَك أمرٌ معلومٌ لأمرٍ موهومٍ، ولا مصلحة متحقِّقة لمصلحة متوهَّمة، وأنَّه ينبغي الإقبال على طالب العلم المفتقر إليه الحريص عليه أزيد من غيره.