جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔
En
جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے
En
9۔ اور جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے [10] تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جواب میں فرمایا کہ میں پے در پے ایک ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج [11] رہا ہوں
[10] عریش میں آپﷺ کی دعا:۔
جب بدر کے مقام پر دونوں لشکروں نے آمنے سامنے ڈیرہ ڈال لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمان کافروں کے مقابلہ میں تہائی سے بھی کم ہیں، نہتے بھی ہیں اور سامان رسد بھی موجود نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جسے عریش کہتے ہیں۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات اللہ کے حضور دعاؤں اور آہ و زاری میں گزار دی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین پر نظر ڈالی تو وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان 319 تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ پھر اپنے رب سے فریاد کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دعا کی: ”اے اللہ! تو نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر۔ اے اللہ اگر مسلمانوں کی اس جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ ہو گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر قبلہ رو ہو کر ہاتھ پھیلائے رہے۔ یہاں تک کہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں سے گر گئی۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ آئے۔ انہوں نے چادر اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈالی۔ پھر پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ نے اپنے رب سے آہ و زاری کرنے میں حد کر دی۔ بے شک اللہ آپ سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر]
[11] فرشتوں کا نزول:۔
سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اسے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز آئی اور سوار کی بھی آواز آئی، وہ سوار کہہ رہا تھا کہ حیزوم (غالباً اس کے گھوڑے کا نام تھا) آگے بڑھ۔ اتنے میں اس مسلمان نے دیکھا کہ وہ کافر اس کے سامنے چت پڑا ہے۔ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا سر پھٹ گیا تھا۔ گویا کسی نے اسے کوڑا مارا ہے۔ پھر اس کا سارا جسم سبز ہو گیا۔ وہ انصاری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سچ کہتے ہو۔ یہ فرشتے تیسرے آسمان سے مدد کے لیے آئے تھے۔ [مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر] سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل امین ہیں اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ان پر لڑائی کے ہتھیار ہیں۔“ [بخاری، کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا] انہی سے روایت ہے کہ مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔ [مسلم، كتاب الجهاد، باب الامداد بالملائكة فى غزوة بدر] نیز دیکھئے سورۃ آل عمران آیت 125
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔