لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾
تاکہ وہ حق کو سچا کر دے اور باطل کو جھوٹا کر دے، خواہ مجرم ناپسند ہی کریں۔
En
تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں
En
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ تاکہ اللہ حق کو حق کر دکھائے اور باطل کو مٹا دے۔ خواہ [9] یہ بات مجرموں کو ناگوار ہو
[9] جو مسلمان تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے، جب انہیں معلوم ہوا کہ اب ہم تین سو تیرہ نہتے آدمیوں کو شاید کفار کے ایک ہزار مسلح لشکر سے جنگ کرنا پڑے۔ تو ان میں سے کچھ لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ موت انہیں منہ کھولے سامنے نظر آنے لگی۔ ان کا تقاضا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو گروہوں (تجارتی قافلہ پر یا کفار کے لشکر پر فتح) میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے تو پھر ہمیں تجارتی قافلہ کا رخ کرنا چاہیے جو غیر مسلح ہے اور آدمی بھی تھوڑے ہیں اور مال بھی بہت ہاتھ آئے گا مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کچھ اور تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کفار سے معرکہ کو ہی درست قرار دیتے تھے۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی مشورہ کرنا ضروری سمجھا بالخصوص انصار سے، کیونکہ انصار اپنے معاہدہ کی رو سے اس بات کے تو پابند تھے کہ اگر مدینہ پر کفار کا حملہ ہو تو وہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ مگر یہ حملہ مدینہ پر نہیں تھا۔ لہٰذا ان انصار سے مشورہ ضروری تھا۔ اس مشورہ کی روداد درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ جنگ کے متعلق مشورہ اور انصار کا جواب:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو سفیان کے نکل جانے کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا۔ سیدنا ابو بکرؓ نے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا۔ سیدنا عمرؓ نے بات کی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا۔ پھر سیدنا سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اشارہ شاید ہماری طرف ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو ہم کود جائیں گے اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک گھوڑے دوڑا دوڑا کر ہلاک کر ڈالنے کا حکم دیں تو ہم تعمیل کریں گے۔“ [مسلم، كتاب الجهاد، باب غزوه بدر]
اور مقداد بن اسودؓ نے کہا: ”ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی کہ تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر لڑو، ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔“ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور ان کے اس قول نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب اذ تستغيثون ربكم]
اور مقداد بن اسودؓ نے کہا: ”ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی کہ تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر لڑو، ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔“ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور ان کے اس قول نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب اذ تستغيثون ربكم]
معرکہ حق و باطل:۔
چنانچہ اس مشورہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مسلح لشکر کی طرف بڑھنے کا ارادہ کر لیا اور اللہ کی بھی یہی مشیت تھی کہ حق و باطل میں فیصلہ کن معرکہ ہو اور اس طرح مسلمانوں کو پوری طرح جانچنے کے بعد کامیابی سے ہمکنار کرے اور اپنا وعدہ پورا کرے۔ دوسری طرف ابو جہل کی ضد کافروں کو مقابلے کے میدان میں گھسیٹ کر لے آئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ جس طرح حق و باطل کے معرکہ میں کفر کا سر توڑنا چاہتے تھے، اس کے اسباب پیدا ہو گئے۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ سنانے اور سچے مومنوں کی علامات بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 5 اور 6 میں فرمایا: ﴿كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ﴾
یعنی جس طرح بعض اموال غنیمت لوٹنے والوں کو اللہ کا فیصلہ ان کی طبائع پر ناگوار گزرا۔ اسی طرح یہ بات بھی بعض مسلمانوں کو ناگوار گزری کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے حق و باطل کا معرکہ بپا کرنے، حق کو غالب اور سر بلند کرنے اور باطل کا سر کچلنے کے لیے نکالا تھا، تجارتی قافلہ کو لوٹنے کے لیے نہیں نکالا تھا اور یہی بات بعض مسلمانوں کو اتنی ناگوار تھی کہ وہ لڑائی کو موت کے منہ میں جانے کے مترادف سمجھ رہے تھے اور ان کا جھگڑا اسی حق و باطل کی جنگ کے سلسلہ میں تھا وہ کہتے تھے کہ جب اللہ نے ہم سے دو باتوں میں سے کسی ایک کا وعدہ کر رکھا ہے تو آخر ہم لڑائی ہی کی راہ کیوں اختیار کریں اور کیوں نہ تجارتی قافلے کا تعاقب کریں۔
یعنی جس طرح بعض اموال غنیمت لوٹنے والوں کو اللہ کا فیصلہ ان کی طبائع پر ناگوار گزرا۔ اسی طرح یہ بات بھی بعض مسلمانوں کو ناگوار گزری کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے حق و باطل کا معرکہ بپا کرنے، حق کو غالب اور سر بلند کرنے اور باطل کا سر کچلنے کے لیے نکالا تھا، تجارتی قافلہ کو لوٹنے کے لیے نہیں نکالا تھا اور یہی بات بعض مسلمانوں کو اتنی ناگوار تھی کہ وہ لڑائی کو موت کے منہ میں جانے کے مترادف سمجھ رہے تھے اور ان کا جھگڑا اسی حق و باطل کی جنگ کے سلسلہ میں تھا وہ کہتے تھے کہ جب اللہ نے ہم سے دو باتوں میں سے کسی ایک کا وعدہ کر رکھا ہے تو آخر ہم لڑائی ہی کی راہ کیوں اختیار کریں اور کیوں نہ تجارتی قافلے کا تعاقب کریں۔